علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2932 ترقیم الرسالہ : -- 2964
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ ، نَا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ ، وَحُمَيْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَخْبَرَاهُ أَنَّهُمَا سَمِعَا النُّعْمَانَ بْنَ بَشِيرٍ ، يَقُولُ:" نَحَلَنِي أَبِي غُلامًا فَأَمَرَتْنِي أُمِّي أَنْ أَذْهَبَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لأُشْهِدَهُ عَلَى ذَلِكَ، فَقَالَ: أَكُلَّ وَلَدِكَ أَعْطَيْتَهُ؟، قَالَ: لا، قَالَ: فَارْدُدْهُ" ،.
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میرے والد نے مجھے عطیے کے طور پر غلام دیا، تو میری والدہ نے مجھے یہ ہدایت کی کہ میں اس کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں جاؤں، تاکہ میں آپ کو اس بات پر گواہ بنا لوں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (میرے والد سے) دریافت کیا: ”کیا تم نے اپنی ساری اولاد کو اسی طرح عطیہ دیا ہے؟“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اسے تم واپس لے لو۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2964]
ترقیم العلمیہ: 2932
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2586، 2587، 2650، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1623، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1372، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5097،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3676، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1367، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2375، 2376، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2961/5، 2962، 2963، 2964، 2965، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18645»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2964 in Urdu
حميد بن عبد الرحمن الزهري ← النعمان بن بشير الأنصاري