یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2937 ترقیم الرسالہ : -- 2969
ثنا أَبُو عَلِيٍّ الصَّفَّارُ مِنْ أَصْلِ كِتَابِهِ، نَا عَلِيُّ بْنُ سَهْلِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى ، نَا حَنْظَلَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، قَالَ: سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنْ وَهَبَ هِبَةً فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا مَا لَمْ يُثَبْ مِنْهَا" ، لا يَثْبُتُ هَذَا مَرْفُوعًا، وَالصَّوَابُ عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ مَوْقُوفًا.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جو شخص کوئی چیز ہبہ کرتا ہے، تو وہ اس چیز کا زیادہ حق دار ہوتا ہے، جب تک وہ اس کا کوئی بدلہ نہ لے۔“ یہ روایت مرفوع ہونے کے طور پر مستند طور پر ثابت نہیں ہے، درست یہ ہے کہ یہ سیدنا عبداللہ بن عمر کے حوالے سے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے موقوف روایت کے طور پر منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2969]
ترقیم العلمیہ: 2937
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2336، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12147، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2969، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 22126، 22128»
«قال الدارقطني: المرفوعرواته كلهم ثقات والصواب عن ابن عمر عن عمر قوله، المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم: (4 / 580)»
«قال الدارقطني: المرفوعرواته كلهم ثقات والصواب عن ابن عمر عن عمر قوله، المفهم لما أشكل من تلخيص مسلم: (4 / 580)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
Sunan al-Daraqutni Hadith 2969 in Urdu
سالم بن عبد الله العدوي ← عبد الله بن عمر العدوي