سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب العارية
باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2963 ترقیم الرسالہ : -- 2996
ثنا أَبُو رَوْقٍ ، نَا ابْنُ خَلادٍ ، نَا مَعْنٌ ، نَا مَالِكٌ . ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الرَّبِيعُ ، نَا الشَّافِعِيُّ ، أنا مَالِكٌ . ح وثنا عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ وَ أَبُو إِسْمَاعِيلَ بْنُ زِيَادٍ ، قَالا: نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا الْقَعْنَبِيُّ ، وَأَبُو مُصْعَبٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، أَنَّ زَيْدًا أَبَا عَيَّاشٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ سَعْدًا" عَنِ الْبَيْضَاءِ بِالسُّلْتِ، فَقَالَ لَهُ سَعْدٌ: أَيُّهُمَا أَفْضَلُ؟، قَالَ: الْبَيْضَاءُ، فَنَهَاهُ عَنْ ذَلِكَ، وَقَالَ سَعْدٌ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَمَّنِ اشْتَرَى التَّمْرَ بِالرُّطَبِ، فَقَالَ: أَيَنْقُصُ الرُّطَبُ إِذَا يَبِسَ؟، فَقَالُوا: نَعَمْ، فَنَهَى عَنْ ذَلِكَ" .
عبداللہ بن زید بیان کرتے ہیں کہ شیخ ابوعیاش زید نے انہیں بتایا کہ ایک مرتبہ سیدنا سعد رضی اللہ عنہ سے گندم کی دو قسموں کے بارے میں پوچھا گیا، تو سیدنا سعد نے ان سے دریافت کیا: ”ان دونوں میں سے کون سی قسم زیادہ بہتر ہے؟“ تو انہوں نے جواب دیا: ”سفید والی۔“ تو سیدنا سعد رضی اللہ عنہ نے انہیں اس سے منع کر دیا، سیدنا سعد نے بتایا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، آپ سے خشک کھجور کے عوض میں تر کھجور کا سودا کرنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”کیا کھجور جب خشک ہو جاتی ہے، تو کم ہو جاتی ہے؟“ لوگوں نے جواب دیا: ”جی ہاں!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے منع فرما دیا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 2996]
ترقیم العلمیہ: 2963
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 1233، وابن الجارود فى "المنتقى"، 714، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4997، 5003،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3359، 3360، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1225، 1225 م، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2264،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 75،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2994، 2995، 2996، 2997، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 1534، 1563»
«قال ابن حزم: هذا حديث لا يصح لجهالة أبي عياش، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 477)»
«قال ابن حزم: هذا حديث لا يصح لجهالة أبي عياش، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 477)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
زيد بن عياش الزرقي ← سعد بن أبي وقاص الزهري