سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب الجعالة
باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3039 ترقیم الرسالہ : -- 3072
ثنا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، نَا سَوَّارُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْعَنْبَرِيُّ ، نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ الْحَدِيثَ، قَالَ:" لا يَبِيعُ حَاضِرٌ لِبَادٍ، وَلا تَلَقَّوُا السِّلَعَ بِأَفْوَاهِ الطُّرُقِ، وَلا تَنَاجَشُوا، وَلا يَسِمُ الرَّجُلُ عَلَى سَوْمِ أَخِيهِ، وَلا يَخْطِبُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ حَتَّى يَنْكِحَ أَوْ يَرُدَّ، وَلا تَسْأَلُ الْمَرْأَةُ طَلاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صَحْفَتِهَا، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ لَهَا، وَلا تَبِيعُوا الْمُصَرَّاةَ مِنَ الإِبِلِ وَالْغَنَمِ، فَمَنِ اشْتَرَاهَا فَهُوَ بِالْخِيَارِ إِنْ شَاءَ رَدَّهَا وَصَاعًا مِنْ تَمْرٍ، وَالرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کی ہے: (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) ارشاد فرمایا ہے: ”شہری شخص دیہاتی کے لیے سودا نہ کرے، سامان (کے قافلے کو منڈی میں پہنچنے سے پہلے) راستے میں نہ خریدو، مصنوعی بولی نہ لگاؤ، کوئی شخص اپنے بھائی کی لگائی ہوئی قیمت کے مقابلے میں قیمت نہ لگائے، کوئی شخص اپنے بھائی کے پیغام نکاح کے مقابلے میں پیغام نہ بھیجے، جب تک وہ دوسرا شخص نکاح نہ کر لے یا اس پیغام کو ختم نہ کر دے، کوئی عورت اپنی بہن (سوکن) کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے، تاکہ اس کے ذریعے وہ اس (سوکن) کے حصے کے فوائد حاصل کر لے، کیونکہ اس عورت کو وہی ملے گا، جو اس کے نصیب میں ہو گا، مصراة اونٹنی اور بکری کو فروخت نہ کرو، جو شخص اسے خرید لے گا، اسے اختیار ہو گا، اگر وہ چاہے، تو کھجور کے ایک صاع سمیت اسے واپس کر دے، رہن میں (رکھے ہوئے) جانور کا دودھ دوہا جا سکتا ہے اور اس پر سواری کی جا سکتی ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب البيوع/حدیث: 3072]
ترقیم العلمیہ: 3039
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2140، 2148، 2150، 2151، 2160، 2162، 2723، 2727، 5109، 5110، 5152، 6066، 6601، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1408،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4046، 4048،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2065، 2066، 2080، 2176، 3437، 3438، 3443، 3444، 3445، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1125 م، 1126، 1134، 1190، 1221، 1222، 1251، 1252، 1304،وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1867، 1929، 2172، 2174، 2175، 2178، 2239، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3070، 3071، 3072، 3074، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7254، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 1056، 1057، 1058، 1059»
«حديث ثابت صحيح لا يدفعه أحد من أهل العلم بالحديث ومعناه صحيح في أصول السنة، الاستذكار الجامع لمذاهب فقها
«حديث ثابت صحيح لا يدفعه أحد من أهل العلم بالحديث ومعناه صحيح في أصول السنة، الاستذكار الجامع لمذاهب فقها
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عبد الله بن عمر العدوي ← أبو هريرة الدوسي