سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3113 ترقیم الرسالہ : -- 3151
نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا أَبُو زُرْعَةَ الدِّمَشْقِيُّ ، نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَيْبَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ خُزَاعَةَ قَتَلُوا رَجُلا مِنْ بَنِي لَيْثٍ عَامَ فَتْحِ مَكَّةَ بِقَتِيلٍ مِنْهُمْ قَتَلُوهُ، فَأُخْبِرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِذَلِكَ فَرَكِبَ رَاحِلَتَهُ فَخَطَبَ، فَقَالَ:" إِنَّ اللَّهَ تَعَالَى حَبَسَ عَنْ مَكَّةَ الْفِيلَ وَسَلَّطَ عَلَيْهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالْمُؤْمِنِينَ، أَلا وَإِنَّهَا لَمْ تَحِلُّ لأَحَدٍ قَبْلِي، وَلا تَحِلُّ لأَحَدٍ بَعْدِي، أَلا وَإِنَّهَا أُحِلَّتْ لِيَ سَاعَةً مِنْ نَهَارٍ، أَلا وَإِنَّهَا سَاعَتِي هَذِهِ حَرَامٌ لا يُخْتَلَى خَلاهَا، وَلا يُعْضَدُ شَجَرُهَا، وَلا تُلْتَقَطُ سَاقِطَتُهَا إِلا لِمُنْشِدٍ، فَمَنْ قُتِلَ لَهُ قَتِيلٌ فَهُوَ بِخَيْرِ النَّظَرَيْنِ، إِمَّا أَنْ يَقْتُلَ، وَإِمَّا أَنْ يُفَادِيَ أَهْلَ الْقَتِيلِ"، فَجَاءَ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْيَمَنِ، فَقَالَ: اكْتُبُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اكْتُبُوا لأَبِي فُلانٍ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ قُرَيْشٍ: إِلا الإِذْخِرَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَإِنَّا نَجْعَلُهُ فِي بُيُوتِنَا وَقُبُورِنَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِلا الإِذْخِرَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: خزاعہ قبیلے کے لوگوں نے فتح مکہ کے سال اپنے ایک مقتول کے بدلے میں بنو لیث کے ایک فرد کو قتل کر دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں بتایا گیا، تو آپ اپنی سواری پر سوار ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ہاتھیوں کو مکہ میں داخل نہیں ہونے دیا، لیکن اس نے اپنے رسول اور اہل ایمان کو اس پر تسلط عطا کیا، یاد رکھنا! یہ مجھ سے پہلے کسی کے لیے حلال نہیں تھا، اور میرے بعد کسی کے لیے حلال نہیں ہو گا، یاد رکھنا! یہ میرے لیے بھی دن کے ایک مخصوص حصے تک حلال ہوا، اب اس وقت یہ حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جا سکتا، یہاں کے درخت کو کاٹا نہیں جا سکتا، یہاں کی گری ہوئی چیز کو اٹھایا نہیں جا سکتا، البتہ اعلان کرنے کے لیے اٹھایا جا سکتا ہے، اگر کسی شخص کا کوئی عزیز قتل ہو جائے، تو اسے دو باتوں میں سے ایک کا اختیار ہو گا، یا تو (قاتل کو قصاص میں) قتل کر دیا جائے، یا مقتول کے لواحقین کو دیت ادا کر دی جائے۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) یمن سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب آئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! یہ مجھے لکھوا دیں۔“ تو نبی نے فرمایا: ”ابوفلان کو لکھ کر دے دو۔“ قریش سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ اذخر (کاٹنے کی اجازت دیں)، کیونکہ ہم اسے اپنے گھروں اور قبروں میں استعمال کرتے ہیں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اذخر (کاٹنے کی اجازت ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3151]
ترقیم العلمیہ: 3113
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 112، 2434، 6880، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1355،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3715، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4789، 4790، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5824، 6961، 6962، 6963، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2017، 3649، 4505، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1405، 2667، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2624،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3149، 3150، 3151، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7362»
الرواة الحديث:
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← أبو هريرة الدوسي