سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3114 ترقیم الرسالہ : -- 3152
نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ حَفْصِ بْنِ غِيَاثٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ حَجَّاجٍ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ مُسْلِمٍ الأَجْرَدِ ، عَنْ مَالِكٍ الأَشْتَرِ ، قَالَ: أَتَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقُلْتُ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ،" إِنَّا إِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدَكِ سَمِعْنَا أَشْيَاءَ فَهَلْ عَهِدَ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا سِوَى الْقُرْآنِ؟، قَالَ: لا، إِلا مَا فِي هَذِهِ الصَّحِيفَةِ فِي عِلاقَةِ سَيْفِي، فَدَعَا الْجَارِيَةَ فَجَاءَتْ بِهَا، فَقَالَ: إِنَّ إِبْرَاهِيمَ حَرَّمَ مَكَّةَ، وَإِنِّي أُحَرِّمُ الْمَدِينَةَ فَهِيَ حَرَامٌ مَا بَيْنَ حَرَّتَيْهَا، أَنْ لا يُعْضَدَ شَوْكُهَا، وَلا يُنَفَّرُ صَيْدُهَا، فَمَنْ أَحْدَثَ حَدَثًا أَوْ آوَى مُحْدِثًا فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ وَالْمَلائِكَةِ وَالنَّاسِ أَجْمَعِينَ، وَالْمُؤْمِنُونَ يَدٌ عَلَى مَنْ سِوَاهُمْ، تَتَكَافَأُ دِمَاؤُهُمْ، وَيَسْعَى بِذِمَّتِهِمْ أَدْنَاهُمْ، لا يُقْتَلُ مُسْلِمٌ بِكَافِرٍ، وَلا ذُو عَهْدٍ فِي عَهْدِهِ" ،.
مالک اشتر بیان کرتے ہیں: میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا، میں نے کہا: ”اے امیر المؤمنین! جب ہم آپ کے پاس سے اٹھ کر گئے، تو ہم نے کچھ باتیں سنی ہیں، کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے علاوہ کوئی اور چیز بطور خاص آپ کو دی؟“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”نہیں، صرف یہ صحیفہ ہے جو میری تلوار کے دستے میں ہے۔“ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کنیز کو بلایا، تو وہ اس صحیفے کو لے کر آئی (اس میں یہ تحریر تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے): ”بیشک سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے مکہ کو حرم قرار دیا تھا، اور میں مدینہ کو حرم قرار دیتا ہوں، دونوں طرف کی سنگلاخ زمین کے درمیان موجود (مدینہ منورہ) حرم ہے، یہاں کے کانٹے کو توڑا نہیں جا سکتا، یہاں کے شکار کو بھگایا نہیں جا سکتا، جو شخص یہاں کوئی بدعت ایجاد کرے یا کسی بدعتی کو پناہ دے، تو اس پر اللہ، اس کے فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو گی، دوسروں کے مقابلے میں تمام اہل ایمان ایک ہاتھ کی مانند ہیں، ان کے خون یکساں اہمیت کے حامل ہیں، ان کے کسی عام فرد کی دی ہوئی پناہ کو تسلیم کیا جائے گا، اور کسی مسلمان کو کسی کافر کے بدلے میں قتل نہیں کیا جا سکتا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3152]
ترقیم العلمیہ: 3114
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 111، 1870، 3047، 3172، 3179، 6755، 7300، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1370، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3716، 3717، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2639، 7347، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4759، 4760، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2034، 4530، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1412، 2127، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2658، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3152، 3153، 3254، 3257، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 609»
الرواة الحديث:
مالك بن الحارث النخعي ← علي بن أبي طالب الهاشمي