سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3144 ترقیم الرسالہ : -- 3183
نَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ الْحَضْرَمِيُّ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا بِشْرُ بْنُ الْمُفَضَّلِ ، نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ أَبِي حَثْمَةَ ، وَمُحَيِّصَةَ بْنِ مَسْعُودٍ ، ثُمَّ أَنَّهُمَا أَتَيَا خَيْبَرَ وَهِيَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ، فَتَفَرَّقَا لِحَوَائِجِهِمَا، فَأَتَى مُحَيِّصَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَهْلٍ وَهُوَ يَتَشَحَّطُ فِي دَمِهِ قَتِيلا، فَدَفَنَهُ ثُمَّ قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَانْطَلَقَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَهْلٍ، وَحُوَيِّصَةُ، وَمُحَيِّصَةُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَهَبَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ يَتَكَلَّمُ وَهُوَ أَحْدَثُ الْقَوْمِ سِنًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" كَبِّرِ الْكُبْرَ، فَسَكَتَ فَتَكَلَّمَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَتَحْلِفُونَ خَمْسِينَ مِنْكُمْ فَتَسْتَحِقُّوا دَمَ صَاحِبِكُمْ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَحْلِفُ وَلَمْ نَشْهَدْ وَلَمْ نَرَ؟، قَالَ: أَتُبَرِّئُكُمْ يَهُودُ بِخَمْسِينَ؟، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ نَأْخُذُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كَفَرُوا، فَعَقَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ عِنْدِهِ" ،.
بشیر بن یسار، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور حضرت محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں نقل کرتے ہیں: یہ دونوں حضرات خیبر تشریف لے گئے، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کی) صلح چل رہی تھی، یہ دونوں حضرات اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے دوسرے ساتھی سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچے، تو وہ خون میں لت پت تھے، اور قتل ہو چکے تھے، سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ نے انہیں دفن کیا، بعد میں جب وہ مدینہ منورہ آئے، تو عبدالرحمن بن سہل، حویصہ بن مسعود اور محیصہ بن مسعود، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، عبدالرحمن بن سہل گفتگو کرنے لگے، وہ ان تینوں میں سب سے کم عمر تھے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پہلے بڑے کو موقع دو۔“ تو وہ خاموش ہو گئے، باقی دونوں حضرات نے بات کی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”کیا تمہارے پچاس افراد حلف اٹھا کر اپنے ساتھی کے خون (کے بدلے، راوی کو شک ہے، شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے قاتل کے خون کے مستحق بننے کے لیے تیار ہو جائیں گے؟“ انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہم کیسے حلف اٹھا سکتے ہیں؟ جب کہ ہم وہاں موجود ہی نہیں تھے، ہم نے (قتل ہوتے) دیکھا ہی نہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہودیوں کے پچاس افراد قسم اٹھا کر بری الذمہ ہو جائیں گے۔“ انہوں نے عرض کی: ”ہم کفار کی قسموں کا کیسے اعتبار کریں؟“ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی طرف سے ان لوگوں کو دیت ادا کی۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3183]
ترقیم العلمیہ: 3144
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»
الرواة الحديث:
سهل بن أبي حثمة الأنصاري ← محيصة بن مسعود الأنصاري