سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3145 ترقیم الرسالہ : -- 3184
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ ، نَا أَبِي . ح وَنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنِي إِسْمَاعِيلُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، أَنَّ بُشَيْرَ بْنَ يَسَارٍ مَوْلَى بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ أَخْبَرَهُ، وَكَانَ شَيْخًا كَبِيرًا فَقِيهًا وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ مِنْ أَهْلِ دَارِهِ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ رِجَالا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنْهُمْ: رَافِعُ بْنُ خَدِيجٍ ، وَسَهْلُ بْنُ أَبِي حَثْمَةَ ، وَسُوَيْدُ بْنُ النُّعْمَانِ حَدَّثُوهُ، أَنَّ الْقَسَامَةَ كَانَتْ فِيهِمْ فِي بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ فِي رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ يُدْعَى عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ قُتِلَ بِخَيْبَرَ، فَذَكَرَ بَشِيرٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَهْلِ بْنِ زَيْدٍ، وَمُحَيِّصَةُ بْنُ مَسْعُودِ بْنُ زَيْدٍ مِنْ بَنِي حَارِثَةَ بْنِ الْحَارِثِ خَرَجَا إِلَى خَيْبَرَ فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَوْمَئِذٍ صُلْحٌ وَأَهْلُهَا الْيَهُودُ، فَتَفَرَّقَ عَبْدُ اللَّهِ وَمُحَيِّصَةُ بِخَيْبَرَ فِي حَوَائِجِهِمَا، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ، وَقَالَ: كَيْفَ نَقْبَلُ أَيْمَانَ قَوْمٍ كُفَّارٍ،.
بنو حارثہ کے آزاد کردہ غلام بشیر بن یسار، جو ایک بزرگ اور سمجھدار آدمی تھے اور انہوں نے اپنے (آقا کے) خاندان بنو حارثہ سے تعلق رکھنے والے کچھ صحابہ کرام کی زیارت بھی کی ہوئی تھی، جن میں سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ، سیدنا سہل بن ابوحثمہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا سوید بن نعمان رضی اللہ عنہ شامل ہیں، بشیر بن یسار ان حضرات کے حوالے سے یہ بات بیان کرتے ہیں: قسامت کا حکم بنو حارثہ کے بارے میں آیا تھا، انصار کے ایک فرد سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ خیبر میں قتل کر دیے گئے۔ بشیر نے یہ بات ذکر کی: سیدنا عبداللہ بن سہل رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا تعلق بنو حارثہ سے تھا، یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں خیبر میں تشریف لے گئے، ان دنوں (مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان) صلح چل رہی تھی، خیبر میں یہودی ہی رہتے تھے، خیبر میں سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا محیصہ رضی اللہ عنہ اپنے اپنے کام کے سلسلے میں ایک دوسرے سے جدا ہو گئے (اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث نقل کی ہے)، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”ہم کفار کی قوم کی قسموں کو کیسے قبول کر سکتے ہیں؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3184]
ترقیم العلمیہ: 3145
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2702، 3173، 6142، 6898، 7192، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1669، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1544، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2384، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6009، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4716، 4717، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1638، 4520، 4521، 4523، 4524، 4525، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1422، 1422 م، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2398، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2677، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3183، 3184، 3185، 3187، 3188، 3189، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16339»
الرواة الحديث:
سهل بن أبي حثمة الأنصاري ← سويد بن النعمان الأنصاري