سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3197 ترقیم الرسالہ : -- 3238
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الطَّيِّبِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ جُهَيْنَةَ أَتَتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاعْتَرَفَتْ بِالزِّنَا، فَقَالَتْ:" إِنِّي حُبْلَى، فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلِيَّهَا، فَقَالَ: أَحْسِنْ إِلَيْهَا، فَإِذَا وَضَعَتْ فَأْتِنِي بِهَا، فَفَعَلَ، فَلَمَّا وَضَعَتْ جَاءَ بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: اذْهَبِي فَأَرْضِعِيهِ، فَفَعَلَتْ، ثُمَّ جَاءَتْ فَأَمَرَ بِهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَشُكَّتْ عَلَيْهَا ثِيَابُهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِرَجْمِهَا فَصَلَّى عَلَيْهَا، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجَمْتَهَا ثُمَّ تُصَلِّي عَلَيْهَا؟، فَقَالَ: لَقَدْ تَابَتْ تَوْبَةً لَوْ قُسِمَتْ بَيْنَ سَبْعِينَ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ لَوَسِعَتْهُمْ، هَلْ وَجَدْتَ أَفْضَلَ مِنْ أَنْ جَادَتْ بِنَفْسِهَا" ،.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ قبیلے کی ایک عورت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور اس نے زنا کا اعتراف کیا، اس نے بتایا: ”میں حاملہ ہوں۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے سرپرست کو بلایا اور فرمایا: ”اس کا اچھی طرح خیال رکھنا، جب یہ بچے کو جنم دے، تو اسے میرے پاس لے آنا۔“ اس شخص نے ایسا ہی کیا، جب اس عورت نے بچے کو جنم دیا، وہ اس عورت کو لے کر نبی کی خدمت میں حاضر ہوا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (اس عورت) سے فرمایا: ”تم جاؤ اور بچے کو دودھ پلاؤ۔“ اس عورت نے ایسا ہی کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت اس کے جسم پر کپڑوں کو اچھی طرح باندھ دیا گیا، پھر آپ کے حکم کے تحت اسے سنگسار کر دیا گیا، آپ نے اس کی نماز جنازہ ادا کی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! آپ نے پہلے اسے سنگسار کیا، پھر اس کی نماز جنازہ ادا کی؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اس عورت نے ایسی توبہ کی ہے، اگر وہ اہل مدینہ میں ستر افراد کے درمیان تقسیم کی جائے، تو ان سب کے لیے کافی ہو گی، کیا تمہیں اس سے زیادہ فضیلت والا شخص کوئی مل سکتا ہے کہ اس نے اپنی جان قربان کر دی؟“ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3238]
ترقیم العلمیہ: 3197
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4403، 4441، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1959، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 2095، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 4440، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1435، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2370، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2555،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3160، 3161، 3162، 3238، 3239، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20177»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»
«قال ابن عبدالبر: أحسن إسناد لهذا الحديث حديث بريدة وحديث عمران، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (24 / 126)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
معاوية بن عمرو البصري ← عمران بن حصين الأزدي