الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. كتاب الحدود والديات وغيره
حدود اور دیات وغیرہ کے بارے میں روایات
ترقیم العلمیہ : 3210 ترقیم الرسالہ : -- 3251
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ رِشْدِينَ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْحِمْيَرِيُّ ، نَا الْحَكَمُ بْنُ عَبْدَةَ ، عَنْ أَيُّوبَ السَّخْتِيَانِيِّ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، قَالَ: لَمَّا كَانَ يَوْمُ النَّهْرَوَانِ كُنَّا مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ دُونَ النَّهَرِ، فَجَاءَتِ الْحَرُورِيَّةُ حَتَّى نَزَلُوا مِنْ وَرَائِهِ، قَالَ عَلِيٌّ: لا تُحَرِّكُوهُمْ حَتَّى يُحْدِثُوا حَدَثًا، فَانْطَلَقُوا إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، فَقَالُوا: حَدِّثْنَا حَدِيثًا حَدَّثَكَ بِهِ أَبُوكَ سَمِعَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: حَدَّثَنِي: تَكُونُ فِتْنَةٌ الْقَاعِدُ فِيهَا خَيْرٌ مِنَ الْقَائِمِ، وَالْقَائِمُ خَيْرٌ مِنَ السَّاعِي، فَقَدَّمُوهُ إِلَى النَّهَرِ فَذَبَحُوهُ كَمَا تُذْبَحُ الشَّاةُ، فَأُتِيَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأُخْبِرَ، فَقَالَ: اللَّهُ أَكْبَرُ، نَادُوهُمْ أَنْ أَخْرِجُوا إِلَيْنَا قَاتَلَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ خَبَّابٍ، فَقَالُوا: كُلُّنَا قَتَلَهُ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لأَصْحَابِهِ: دُونَكُمُ الْقَوْمُ، فَمَا لَبِثَ أَنْ قَتَلَهُمُ عَلِيٌّ وَأَصْحَابُهُ" ، وَذَكَرَ بَاقِيَ الْحَدِيثِ.
ابواحوص بیان کرتے ہیں: جنگ نہروان کے دن ہم لوگ نہر کے ایک طرف سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کے ساتھ موجود تھے، اسی دوران خارجی آئے اور انہوں نے نہر کے دوسری طرف پڑاؤ کیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے انہیں متحرک نہیں کرنا، جب تک وہ خود کوئی غلطی نہ کریں۔“ وہ لوگ عبداللہ بن خباب کے پاس آئے اور بولے: ”آپ ہمیں کوئی ایسی حدیث سنائیں، جو آپ کے والد نے آپ کو سنائی ہو، جو انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو۔“ تو عبداللہ بن خباب نے بتایا: ”میرے والد نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’ایسا فتنہ آئے گا، جس میں بیٹھا ہوا شخص کھڑے ہوئے سے بہتر ہو گا اور کھڑا ہوا شخص دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔’“ (راوی بیان کرتے ہیں:) وہ لوگ (یعنی خارجی لوگ) انہیں (یعنی عبداللہ بن خباب کو) دریا کے کنارے لے گئے اور انہیں اس طرح ذبح کر دیا، جس طرح بکری کو ذبح کیا جاتا ہے، اس کی اطلاع سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ملی، تو انہوں نے کہا: ”اللہ اکبر!“ اور فرمایا: ”انہیں بلند آواز میں پکارو، یہ کہو کہ وہ عبداللہ بن خباب کے قاتل کو ہماری طرف بھیج دیں۔“ تو ان لوگوں نے جواب میں تین مرتبہ یہ کہا: ”ہم سب نے انہیں قتل کیا ہے۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے ساتھیوں سے فرمایا: ”اب ان پر حملہ کر دو۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں نے ان لوگوں کو قتل کر دیا، راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد (روایت نقل کرنے والے نے) باقی روایت نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كتاب الحدود والديات وغيره/حدیث: 3251]
ترقیم العلمیہ: 3210
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3251، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 21449، 21450، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 7215، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 18578، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 39051، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 3629، 3630، 3631»
الرواة الحديث:
عوف بن مالك الجشمي ← مالك بن نضلة الجشمي