سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب أحكام النكاح
باب: نکاح کے احکام کا بیان
ترقیم العلمیہ : 3466 ترقیم الرسالہ : -- 3520
نَا ابْنُ أَبِي دَاوُدَ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا ابْنُ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُرْوَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ، فَإِنْ دَخَلَ بِهَا فَالْمَهْرُ لَهَا بِمَا أَصَابَ مِنْهَا، فَإِنْ تَشَاجَرُوا فَالسُّلْطَانُ وَلِيُّ مَنْ لا وَلِيَّ لَهُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتی ہیں: ”جو عورت ولی کے بغیر اجازت نکاح کر لے، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اس کا نکاح باطل ہو گا، اگر مرد اس کے ساتھ صحبت کر لے، تو مرد کے اس عمل کی وجہ سے اس عورت کو مہر ملے گا، اگر ان کے درمیان آپس میں اختلاف ہو جائے، تو جس کا کوئی ولی نہ ہو، حاکم وقت اس کا ولی ہوتا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3520]
ترقیم العلمیہ: 3466
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 759، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4074، 4075، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2721، 2722، 2723، 2724، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 5373، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2083، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1102، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1879، 1880، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3520، 3533، 3534، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2297، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 230، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 16167، 16182، 37270»
«قال ابن حجر: حديث صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 99)»
«قال ابن حجر: حديث صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 99)»
الحكم على الحديث: صحيح
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق