سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. باب
باب
ترقیم العلمیہ : 3677 ترقیم الرسالہ : -- 3733
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْبَخْتَرِيِّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، نَا الْوَاقِدِيُّ. ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا جَدِّي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ، نَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَ: وَنا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ بِهَا:" لَيْسَ بِكِ هَوَانٌ عَلَى أَهْلِكِ إِنْ شِئْتِ أَقَمْتُ مَعَكِ ثَلاثًا خَالِصَةً لَكِ، وَإِنْ شِئْتِ سَبَّعْتُ لَكِ ثُمَّ سَبَّعْتُ لِنِسَائِي، فَقَالَتْ تُقِيمُ مَعِي ثَلاثًا خَالِصَةً" . فَأَخَذَ مَالِكٌ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ،" بِسَبْعٍ لِلْبِكْرِ، وَبِثَلاثٍ لِلثَّيِّبِ".
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے: عبدالملک بن ابوبکر اپنے والد کے حوالے سے سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: جب ان کی رخصتی ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”تم اپنے شوہر کے نزدیک کم حیثیت کی مالک نہیں ہو، اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ تین دن قیام کرتا ہوں، جو صرف تمہارے لیے ہوں گے (دوسری ازواج کو اپنی باری کے حساب سے ایک، ایک دن ملے گا)، اور اگر تم چاہو، تو میں تمہارے ساتھ سات دن رہوں، لیکن پھر اپنی تمام بیویوں (میں سے ہر ایک کے ساتھ) سات، سات دن رہوں گا۔“ تو سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: ”آپ میرے ساتھ تین دن رہیں۔“ امام مالک اور ابن ابی ذئب نے اس سے یہ حکم اخذ کیا ہے: کنواری کے ساتھ سات دن رہا جائے گا اور ثیبہ کے ساتھ تین دن رہا جائے گا۔ [سنن الدارقطني/ كتاب النكاح/حدیث: 3733]
ترقیم العلمیہ: 3677
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 918، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 514، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2949، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3256، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2122، 3119، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3511، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2256، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1598، 1917، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3733، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16602، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 17224»
«في إسناده الواقدي وهو ضعيف جدا، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 194)»
«في إسناده الواقدي وهو ضعيف جدا، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 194)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
أبو بكر بن عبد الرحمن المخزومي ← أم سلمة زوج النبي