سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. باب ما تبقى بعد الفريضة للعصبة
باب
ترقیم العلمیہ : 4045 ترقیم الرسالہ : -- 4116
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا لَيْثُ بْنُ حَمَّادٍ الصَّفَّارُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِي عَامِرٍ الْهَوْزَنِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَنَا أَوْلَى بِكُلِّ مُؤْمِنٍ مِنْ نَفْسِهِ، مَنْ تَرَكَ مَالا فَلِوَرَثَتِهِ، وَمَنْ تَرَكَ دَيْنًا أَوْ ضَيَاعًا، فَإِلَيَّ أَنَا أَقْضِي دَيْنَهُ وَأَفُكُّ عَانِيَهُ، وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لا وَارِثَ لَهُ، يَقْضِي دَيْنَهُ وَيَفُكُّ عَانِيَهُ" ،.
سیدنا مقدام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”میں ہر مومن کے لیے اس کی جان سے زیادہ قریب ہوں، جو شخص مال چھوڑ کر جائے گا، وہ اس کے ورثاء کو ملے گا اور جو شخص قرض یا بال بچے چھوڑ کر جائے گا (ان کا کوئی پرسان حال نہ ہو)، تو وہ میری طرف آئیں گے، میں اس شخص کا قرض بھی ادا کروں گا اور اس کی دیگر ذمہ داریاں بھی پوری کروں گا، ماموں اس شخص کا وارث بنتا ہے، جس کا کوئی وارث نہیں ہوتا، کیونکہ وہی اس کا قرض بھی اتارے گا اور اس کی ذمہ داریاں بھی پوری کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4116]
ترقیم العلمیہ: 4045
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1038، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6035، 6036، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8094، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6320، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2899، 2900، 2901، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2634، 2738، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4116، 4117، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17448، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31777»
«حديث حسن، علل الحديث: (4 / 552)»
«حديث حسن، علل الحديث: (4 / 552)»
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
عبد الله بن لحي الهوزني ← المقدام بن معدي كرب الكندي