سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. إخوة الأب والأم ، وإخوة الأب
إِخْوَةُ الْأَبِ وَالْأُمِّ، وَإِخْوَةُ الْأَبِ
ترقیم العلمیہ : 4054 ترقیم الرسالہ : -- 4126
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادِ الطِّهْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ وَهْبِ بْنِ مُنَبِّهٍ ، عَنْ مَسْعُودِ بْنِ الْحَكَمِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فِي امْرَأَةٍ تَرَكَتْ زَوْجَهَا وَأُمَّهَا وَإِخْوَتَهَا لأُمِّهَا وَإِخْوَتَهَا لأَبِيهَا، وَأُمِّهَا، فَشَرَكَ بَيْنَ الإِخْوَةِ لِلأُمِّ وَبَيْنَ الإِخْوَةِ لِلأُمِّ وَالأَبِ بِالثُّلُثِ، فَقَالَ لَهُ رَجُلٌ: إِنَّكَ لَمْ تُشْرِكْ بَيْنَهُمَا عَامَ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: فَتِلْكَ عَلَى مَا قَضَيْنَا يَوْمَئِذٍ، وَهَذِهِ عَلَى مَا قَضَيْنَا الْيَوْمَ" ، قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَقَالَ الثَّوْرِيُّ: لَوْ لَمْ أَسْتَفِدْ فِي سَفْرَتِي هَذَا الْحَدِيثَ لَظَنَنْتُ أَنِّي قَدِ اسْتَفَدْتُ فِيهِ خَيْرًا.
مسعود بن حکم ثقفی بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مقدمہ آیا، جو ایک خاتون کے بارے میں تھا، جس نے پس ماندگان میں اپنا شوہر، اپنی والدہ، ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اور باپ کی طرف سے شریک بہن بھائی چھوڑے تھے، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ماں کی طرف سے شریک بہن بھائی اور سگے بہن بھائیوں کو ایک دوسرے کے ساتھ برابر کا حصہ دار بنایا، جو ایک تہائی حصے کے بارے میں تھا، تو ایک شخص نے ان سے کہا: ”آپ نے فلاں سال تو انہیں ایک دوسرے کا حصہ دار نہیں بنایا تھا۔“ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس وقت ہم نے جو فیصلہ دیا تھا، وہ اس وقت کا تھا، آج کا ہمارا فیصلہ وہ ہے، جو ہم نے اب دے دیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الفرائض/حدیث: 4126]
ترقیم العلمیہ: 4054
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 8058، 8065، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 671، 2907، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4126،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 31700، 31701»
الرواة الحديث:
مسعود بن الحكم الثقفي ← عمر بن الخطاب العدوي