سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
1. باب السير
جہاد و غزوات کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4106 ترقیم الرسالہ : -- 4179
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ الأَنْصَارِيُّ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، عَنْ عَمِّهِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ مُجَمِّعِ بْنِ جَارِيَةَ ، قَالَ:" شَهِدْتُ الْحُدَيْبِيَةَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا انْصَرَفْنَا مِنْهَا إِذَا النَّاسُ يُوجِفُونَ الأَبَاعِرَ، قَالَ: فَقَالَ بَعْضُ النَّاسِ لِبَعْضٍ: مَا لِلنَّاسِ مَالُوا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَخَرَجْنَا نُوجِفُ مَعَ النَّاسِ حَتَّى وَجَدْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاقِفًا عِنْدَ كُرَاعِ الْغَمِيمِ، فَلَمَّا اجْتَمَعَ إِلَيْهِ بَعْضُ مَا يُرِيدُ مِنَ النَّاسِ قَرَأَ عَلَيْهِمْ إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُبِينًا، قَالَ: فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَوَفَتْحٌ هُوَ؟، قَالَ: إِي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ إِنَّهُ لَفَتْحٌ، قَالَ: ثُمَّ قُسِمَتْ خَيْبَرُ عَلَى أَهْلِ الْحُدَيْبِيَةِ عَلَى ثَمَانِيَةَ عَشَرَ سَهْمًا، وَكَانَ الْجَيْشُ أَلْفًا وَخَمْسَمِائَةٍ فِيهِمْ ثَلاثُمِائَةِ فَارِسٍ، قَالَ: فَكَانَ لِلْفَارِسِ سَهْمَانِ، وَلِلرَّاجِلِ سَهْمٌ" .
سیدنا مجمع بن جاریہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ غزوہ حدیبیہ کے موقع پر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھا، جب ہم وہاں سے واپس ہوئے تو لوگ اپنے اونٹوں کو دوڑانے لگے۔ بعض لوگوں نے دوسروں سے دریافت کیا: ان لوگوں کو کیا ہوا ہے، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جا رہے ہیں؟ ہم نکلے، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کراع الغمیم کے مقام پر ٹھہرے ہوئے پایا، آپ کی طرف جانے والے کچھ لوگ جب وہاں اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: ”بیشک ہم نے تمہیں واضح فتح عطا کی ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے یہ دریافت کیا: کیا یہ فتح ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں! اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ فتح ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: پھر غزوہ حدیبیہ میں شریک ہونے والوں میں غزوہ خیبر کا مال تقسیم کیا گیا۔ اس کے اٹھارہ حصے کیے گئے، لشکر کی تعداد پندرہ سو تھی، جن میں سے تین سو گھڑسوار تھے تو گھڑسواروں کو دو، دو حصے دیے گئے اور پیادہ لوگوں کو ایک، ایک حصہ دیا گیا۔ [سنن الدارقطني/كتاب السير/حدیث: 4179]
ترقیم العلمیہ: 4106
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2609، 3732، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2736، 3015، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12991، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4179، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15709، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 33858، 38000»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 378)»
«قال ابن حجر: في إسناده ضعف، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (2 / 378)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن جارية الأنصاري ← مجمع ابن جارية الأنصاري