🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
46. باب فى النهي للجنب والحائض عن قراءة القرآن
باب: جنبی شخص اور حائضہ عورت کے لیے قرآن کی تلاوت کی ممانعت
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 425 ترقیم الرسالہ : -- 432
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الدُّورِيُّ ، وَحَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ دُبَيْسِ بْنِ أَحْمَدَ الْحَدَّادُ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالا: نا أَبُو نُعَيْمٍ ، نا زَمْعَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ وَهْرَامَ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ:" كَانَ ابْنُ رَوَاحَةَ مُضْطَجِعًا إِلَى جَنْبِ امْرَأَتِهِ، فَقَامَ إِلَى جَارِيَةٍ لَهُ فِي نَاحِيَةِ الْحُجْرَةِ فَوَقَعَ عَلَيْهَا، وَفَزَعَتِ امْرَأَتُهُ فَلَمْ تَجِدْهُ فِي مَضْجَعِهِ، فَقَامَتْ وَخَرَجَتْ فَرَأَتْهُ عَلَى جَارِيَتِهِ، فَرَجَعَتْ إِلَى الْبَيْتِ فَأَخَذَتِ الشَّفْرَةَ ثُمَّ خَرَجَتْ، وَفَرَغَ فَقَامَ فَلَقِيَهَا تَحْمِلُ الشَّفْرَةَ، فَقَالَ: مَهْيَمْ؟ فَقَالَتْ: مَهْيَمْ، لَوْ أَدْرَكْتُكَ حَيْثُ رَأَيْتُكَ لَوَجَأْتُ بَيْنَ كَتِفَيْكَ بِهَذِهِ الشَّفْرَةِ، قَالَ: وَأَيْنَ رَأَيْتِنِي؟ قَالَتْ: رَأَيْتُكَ عَلَى الْجَارِيَةِ، فَقَالَ: مَا رَأَيْتِنِي، وَقَدْ نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَقْرَأَ أَحَدُنَا الْقُرْآنَ وَهُوَ جُنُبٌ، قَالَتْ: فَاقْرَأْ فَقَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ يَتْلُو كِتَابَه كَمَا لاحَ مَشْهُورٌ مِنَ الْفَجْرِ سَاطِعٌ أَتَى بِالْهُدَى بَعْدَ الْعَمَى فَقُلُوبُنَا بِهِ مُوقِنَاتٌ أَنَّ مَا قَالَ وَاقِعُ يَبِيتُ يُجَافِي جَنْبَهُ عَنْ فِرَاشِهِ إِذَا اسْتَثْقَلَتْ بِالْمُشْرِكِينَ الْمَضَاجِعُ فَقَالَتْ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَكَذَّبْتُ الْبَصَرَ، ثُمَّ غَدَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَخْبَرَهُ فَضَحِكَ حَتَّى رَأَيْتُ نَوَاجِذَهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
عکرمہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ اپنی اہلیہ کے پہلو میں سو رہے تھے، وہ اٹھے اور گھر کے کنارے میں موجود اپنی کنیز کے پاس تشریف لے گئے اور اس کے ساتھ صحبت کرنے لگے، ان کی اہلیہ خواب میں ڈر گئیں، وہ بیدار ہوئیں تو انہیں سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ بستر پر نہیں ملے، وہ اٹھیں اور باہر آئیں تو دیکھا کہ وہ اس کنیز کے ساتھ صحبت کر رہے ہیں، وہ خاتون گھر کے اندر گئی، اس نے چھری لی اور باہر نکلی تو اس دوران سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ صحبت کر کے فارغ ہو چکے تھے اور واپس آ رہے تھے۔ ان کا اپنی اہلیہ سے سامنا ہوا جس نے چھری اٹھائی ہوئی تھی، تو سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کیا ہوا؟ تو ان کی اہلیہ نے جواب دیا: ہونا کیا ہے، اگر میں آپ کو اس حالت میں پاتی جس حالت میں، میں نے آپ کو پہلے دیکھا ہے، تو میں نے یہ چھری آپ کے دونوں کندھوں کے درمیان مار دینی تھی۔ ابن رواحہ نے دریافت کیا: تم نے مجھے کہاں دیکھ لیا؟ تو اہلیہ نے جواب دیا: میں نے آپ کو کنیز کے ساتھ صحبت کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ تو ابن رواحہ نے یہ فرمایا: تم نے مجھے نہیں دیکھا۔ پھر سیدنا ابن رواحہ نے فرمایا: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے، کوئی شخص جنابت کی حالت میں قرآن کی تلاوت کرے۔ تو اہلیہ نے کہا: پھر آپ تلاوت کریں۔ تو سیدنا ابن رواحہ نے یہ اشعار پڑھے: ہمارے پاس اللہ کے رسول تشریف لائے جو اس کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں، جو چمکدار اور روشن صبح سے بھی زیادہ مشہور اور روشن ہے، وہ ہمارے پاس ہدایت لے کر آئے، اس کے بعد کہ ہمارے دل نابینا ہو چکے تھے، وہ ایسی ہدایت تھی جو یقین دلانے والی تھی اور انہوں نے جو فرمایا وہ واقع ہوا، وہ رات ایسی حالت میں بسر کرتے تھے کہ ان کا پہلو بستر سے الگ ہوتا تھا، اس وقت جب مشرکوں کے بستر ان کے وزن سے بوجھل ہوتے تھے۔ تو اس خاتون نے کہا: میں اللہ تعالیٰ پر ایمان لاتی ہوں اور اپنی آنکھوں سے دیکھی ہوئی بات کو غلط قرار دیتی ہوں۔ پھر اگلے دن سیدنا عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کو اس بارے میں بتایا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مسکرا دیے۔ راوی بیان کرتے ہیں: یہاں تک کہ مجھے آپ کے اطراف کے دانت دکھائی دیے۔ [سنن الدارقطني/كتاب الطهارة/حدیث: 432]
ترقیم العلمیہ: 425
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 430، 431، 432، 433»
«قال البيهقي: روي عن ابن عياش عن زمعة كذلك موصولا وليس بالقوي قال وعن عكرمة عن ابن رواحة وليس بالقوي الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام:393/2»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن رواحة الأنصاري، أبو محمد، أبو رواحة، أبو عمروصحابي
👤←👥عكرمة مولى ابن عباس، أبو مجالد، أبو عبد الله
Newعكرمة مولى ابن عباس ← عبد الله بن رواحة الأنصاري
ثقة
👤←👥سلمة بن وهرام الجندي
Newسلمة بن وهرام الجندي ← عكرمة مولى ابن عباس
صدوق حسن الحديث
👤←👥زمعة بن صالح اليماني، أبو وهب
Newزمعة بن صالح اليماني ← سلمة بن وهرام الجندي
ضعيف الحديث
👤←👥الفضل بن دكين الملائي، أبو نعيم
Newالفضل بن دكين الملائي ← زمعة بن صالح اليماني
ثقة ثبت
👤←👥محمد بن سليمان الباغندي، أبو بكر
Newمحمد بن سليمان الباغندي ← الفضل بن دكين الملائي
مقبول
👤←👥إبراهيم بن دبيس الحداد
Newإبراهيم بن دبيس الحداد ← محمد بن سليمان الباغندي
ثقة
👤←👥العباس بن محمد الدوري، أبو الفضل
Newالعباس بن محمد الدوري ← إبراهيم بن دبيس الحداد
ثقة حافظ
👤←👥محمد بن مخلد الدوري، أبو عبد الله
Newمحمد بن مخلد الدوري ← العباس بن محمد الدوري
ثقة حافظ