سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
7. باب ذكر الإقامة واختلاف الروايات فيها
اقامت کا تذکرہ اور اس بارے میں روایات کا اختلاف
ترقیم العلمیہ : 923 ترقیم الرسالہ : -- 935
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ نَيْرُوزٍ ، ثنا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: لَمَّا أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالنَّاقُوسِ أَطَافَ بِي وَأَنَا نَائِمٌ رَجُلٌ فَأَلْقَى عَلَيَّ، فَذَكَرَ الأَذَانَ مَرَّتَيْنِ مَرَّتَيْنِ وَالإِقَامَةَ مَرَّةً مَرَّةً، فَلَمَّا أَصْبَحْتُ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِمَا رَأَيْتُ، فَقَالَ:" إِنَّهَا لَرُؤْيَا حَقٌّ إِنْ شَاءَ اللَّهُ، فَقُمْ مَعَ بِلالٍ فَأَلْقِ عَلَيْهِ مَا رَأَيْتَ فَإِنَّهُ أَنْدَى صَوْتًا مِنْكَ"، فَسَمِعَ ذَلِكَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ لَقَدْ رَأَيْتُ مثل الَّذِي رَأَى، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَلِلَّهِ الْحَمْدُ" .
محمد بن عبداللہ بیان کرتے ہیں: میرے والد (سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ) نے مجھے یہ حدیث پاک بیان کی ہے: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے (نماز کے لیے) ناقوس کا حکم دیا تو میں نے خواب میں دیکھا ایک شخص کو جو میرے پاس آیا اس نے مجھے یہ چیز سکھائی۔ اس نے اذان کے کلمات کو دو مرتبہ اور اقامت کے کلمات کو ایک مرتبہ ذکر کیا۔ صبح کی نماز کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس خواب کے بارے میں بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر اللہ نے چاہا تو یہ خواب سچ ثابت ہو گا۔ تم بلال کے ساتھ کھڑے ہو جاؤ اور بلال کو وہ چیز سکھاؤ جو تم نے دیکھی ہے، کیونکہ اس کی آواز تمہارے مقابلے میں زیادہ بلند ہے۔“ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے یہ بات سنی تو وہ بولے: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث فرمایا ہے میں نے بھی اسی طرح کا خواب دیکھا ہے جس طرح کا اس نے دیکھا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر اللہ کے لیے ہر طرح حمد مخصوص ہے (جس نے ہمیں توفیق دی ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كتاب الصلاة/حدیث: 935]
ترقیم العلمیہ: 923
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 363، 370، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1679، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 499، 512، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 189، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 706، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 935، 962، 963، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16739»
«قال ابن حجر: صححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 356)»
«قال ابن حجر: صححه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (1 / 356)»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
محمد بن عبد الله الأنصاري ← عبد الله بن زيد الأنصاري