یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
17. باب فى غسل اليدين إلى المرفقين وتطويل الغرة وتخليل الأصابع والدلك
بازوؤں کو کہنیوں سمیت دھونے، سفیدی کو لمبا کرنے، انگلیوں کا خلال کرنے اور ملنے کا بیان
حدیث نمبر: 658
عَنْ أَبِي سَوْرَةَ عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيِّ (رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ) وَعَنْ عَطَاءٍ قَالَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ( (حَبَّذَا الْمُتَخَلِّلُونَ) ) قِيلَ: وَمَا الْمُتَخَلِّلُونَ؟ قَالَ: ( (فِي الْوُضُوءِ وَالطَّعَامِ) )
سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خلال کرنے والے بہت اچھے ہیں۔“ کسی نے کہا: ”خلال کرنے والوں سے مراد کیا ہے؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو وضو اور کھانے میں خلال کرتے ہیں۔“ [الفتح الربانی/أبواب الوضوء/حدیث: 658]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، واصل بن السائب الرقاشي وابو سورة مجمع علي تضعيفھما، وابو سورة لا يعرف له سماع من ابي ايوب۔ أخرجه ابن ابي شيبة: 1/ 12، والطبراني في الكبير: 4061، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23527 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23924»
وضاحت: فوائد: … لیکن اس روایت کے شروع والے الفاظ صحیح ہیں، جیسا کہ درج ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے: سیدنا انس بن مالک ؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ((حَبَّذَا الْمُتْخَلِّلُوْنَ مِنْ أُمَّتِی۔)) … بہت خوب ہیں میری امت کے وہ لوگ، جو خلال کرتے ہیں۔ (معجم اوسط طبرانی: ۱/ ۳۹، صحیحۃ:۲۵۶۷) معلوم ہوا کہ وضو میں ہاتھوں اور پاؤں کو دھوتے وقت ان کی انگلیوں کو خلال کرنا چاہیے، ہاتھوں کی انگلیوں کو ایک دوسری میں میں ڈال کر اور پاؤں کی انگلیوں کا چھنگلی انگلی سے خلال کرنا چاہیے۔ مزید دیکھیں حدیث نمبر: ۶۹۲۔
الحكم على الحديث: ضعیف
Al-Fath al-Rabbani Hadith 658 in Urdu