الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
31. باب نهى المراة أن تلبس ما يحكي بدنها أو تشبه بالرجال
عورت کے لیے اس لباس کی ممانعت کا بیان، جو اس کے بدن کو واضح کرے یا جس کی وجہ سے مردوں سے تشبیہ لازم آئے
حدیث نمبر: 8145
عَنْ عَطَاءٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَجُلٍ مِنْ هُذَيْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ رَأَيْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَنْزِلُهُ فِي الْحِلِّ وَمَسْجِدُهُ فِي الْحَرَمِ قَالَ فَبَيْنَا أَنَا عِنْدَهُ رَأَى أُمَّ سَعِيدٍ ابْنَةَ أَبِي جَهْلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا مُتَقَلِّدَةً قَوْسًا وَهِيَ تَمْشِي مِشْيَةَ الرَّجُلِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ مَنْ هَذِهِ قَالَ الْهُذَلِيُّ فَقُلْتُ هَذِهِ أُمُّ سَعِيدٍ بِنْتُ أَبِي جَهْلٍ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَيْسَ مِنَّا مَنْ تَشَبَّهَ بِالرِّجَالِ مِنَ النِّسَاءِ وَلَا مَنْ تَشَبَّهَ بِالنِّسَاءِ مِنَ الرِّجَالِ
۔ بنو ہذیل کے ایک آدمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما کو دیکھا، ان کا گھرحرم سے باہر تھا اور مسجد حرم میں تھی، میں ان کے پاس تھا کہ انھوں نے ابو جہل کی بیٹی ام سعید کو دیکھا، اس نے کمان لٹکائی ہوئی تھی اور مرد کی سی چال چل رہی ہے۔ پھر انھوں نے پوچھا: یہ خاتون کون ہے؟ میں نے کہا: یہ ابو جہل کی بیٹی ام سعید ہے۔ انھوں نے کہا: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: وہ عورت ہم میں سے نہیں جو مردوں کی مشابہت اختیار کرے اور وہ مرد ہم سے نہیں جو عورتوں کی مشابہت اختیار کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللباس والزينة/حدیث: 8145]
تخریج الحدیث: «مرفوعه صحيح، وھذا اسناد ضعيف لجھالة حال عمر بن حوشب، ولابھام الرجل من ھذيل، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6875»
وضاحت: فوائد: … اگر طبعی طور پر کوئی مرد عورت کی سی یا کوئی عورت مرد کی سی چال چلے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں، حرج اس وقت ہو گا، جب تکلف کرتے ہوئے ایسا کیا جائے گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
Al-Fath al-Rabbani Hadith 8145 in Urdu