الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
301. الآية (128) قوله تعالى: {لقد جاءكم رسول من أنفسكم عزيز عليه ما عنتم حريص عليكم بالمؤمنين رءوف رحيم}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِنْ أَنْفُسِكُمْ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 1053 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1053
نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ، قَالَ:" كَانَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لا يُثْبِتُ آيَةً فِي الْمُصْحَفِ حَتَّى يَشْهَدَ عَلَيْهَا رَجُلانِ، فَجَاءَهُ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، فَحَدَّثَهُ بِالآيَتَيْنِ مِنْ آخِرِ سُورَةِ التَّوْبَةِ: لَقَدْ جَاءَكُمْ سورة التوبة آية 128 الآيَةَ، فَقَالَ: لا أَسْأَلُكَ عَلَيْهَا بَيِّنَةً، كَذَلِكَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَثْبَتَهُ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ قرآن میں کسی آیت کو اس وقت تک شامل نہیں کرتے تھے جب تک دو آدمی اس پر گواہی نہ دے دیتے، پس ایک انصاری شخص ان کے پاس آیا اور سورہ توبہ کی آخری دو آیات ﴿لَقَدْ جَاءَكُمْ﴾ یعنی تمہارے پاس اللہ کے رسول آئے کی خبر دی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم سے اس پر کوئی اور گواہی طلب نہیں کرتا، یہی بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی ثابت ہے، پس انہوں نے ان آیات کو مصحف میں درج کر دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 1053]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده ضعيف للانقطاع بين يحيى بن جعدة وعمر
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي | |
👤←👥يحيى بن جعدة القرشي يحيى بن جعدة القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي | ثقة | |
👤←👥عمرو بن دينار الجمحي، أبو محمد عمرو بن دينار الجمحي ← يحيى بن جعدة القرشي | ثقة ثبت | |
👤←👥سفيان بن عيينة الهلالي، أبو محمد سفيان بن عيينة الهلالي ← عمرو بن دينار الجمحي | ثقة حافظ حجة |
يحيى بن جعدة القرشي ← عمر بن الخطاب العدوي