الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
7. باب قول عمر في الجد
دادا کے بارے میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول
ترقیم دار السلفیہ: 70 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1247
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلِيٍّ ، فِي رَجُلٍ تَرَكَ جَدَّهُ وَأُمَّهُ وَأُخْتَهُ، فَجَعَلَ لِلأُخْتِ النِّصْفَ، وَلِلأُمِّ الثُّلُثَ، وَلِلْجَدِّ السُّدُسَ" . وَإِنَّ ابْنَ مَسْعُودٍ " جَعَلَ لِلأُخْتِ النِّصْفَ، وَلِلأُمِّ السُّدُسَ، وَلِلْجَدِّ الثُّلُثَ" . وَإِنَّ زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ " جَعَلَهَا مِنْ تِسْعَةٍ، فَجَعَلَ لِلأُمِّ الثُّلُثَ، وَجَعَلَ مَا بَقِيَ بَيْنَ الْجَدِّ وَالأُخْتِ، لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنْثَيَيْنِ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک مسئلے میں جہاں وارث دادا، ماں اور بہن تھے، فیصلہ کیا کہ بہن کو نصف، ماں کو تہائی اور دادا کو چھٹا حصہ دیا جائے۔ جبکہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بہن کو نصف، ماں کو چھٹا، اور دادا کو تہائی دیا۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے ماں کو تہائی دیا اور باقی مال دادا اور بہن کے درمیان لڑکے کے دو حصے اور لڑکی کے ایک حصہ کے تناسب سے تقسیم کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب ولاية العصبة/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 70، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 19070»
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
عبد الله بن مسعود ← زيد بن ثابت الأنصاري