الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
162. باب المرأة تلد لستة أشهر
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
ترقیم دار السلفیہ: 2080 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3257
نا هُشَيْمٌ ، أنا الْعَوَّامُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِامْرَأَةٍ مُصَابَةٍ قَدْ فَجَرَتْ، فَهَمَّ أَنْ يَضْرِبَهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ : لَيْسَ ذَاكَ لَكَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يَبْلُغَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الْمَجْنُونِ حَتَّى يُكْشَفَ عَنْهُ" ، فَخَلَّى عَنْهَا عُمَرُ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس ایک عورت لائی گئی جو دیوانی تھی اور اس سے بدکاری ہو گئی تھی، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث سے استدلال کر کے اسے حد سے بچا لیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3257]
تخریج الحدیث: «إسنادہ صحیح، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 143،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 955، 2364،وأبو داود فى «سننه» برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1423، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3267، وأحمد فى «مسنده» برقم: 955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19590»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے:
«لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
«لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي | |
👤←👥إبراهيم بن يزيد التيمي، أبو أسماء إبراهيم بن يزيد التيمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي | ثقة يرسل | |
👤←👥العوام بن حوشب الشيباني، أبو عيسى العوام بن حوشب الشيباني ← إبراهيم بن يزيد التيمي | ثقة ثبت | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← العوام بن حوشب الشيباني | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي |
إبراهيم بن يزيد التيمي ← علي بن أبي طالب الهاشمي