🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
169. باب الرجلان ينكحان أختين فيبني كل واحد منهما بامرأة الآخر
باب: دو مرد دو بہنوں سے نکاح کریں اور دونوں ایک دوسرے کی بیوی سے ہمبستری کر لیں (غلطی سے یا لاعلمی میں)، تو اس کا حکم۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2119 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3296
نا نا هُشَيْمٌ، نا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي أَخَوَيْنِ تَزَوَّجَا أُخْتَيْنِ، فَأُدْخِلَ عَلَى كُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا امْرَأَةُ أَخِيهِ، قَالَ:" يُفَرَّقُ بَيْنَهُمَا، وَلِكُلِّ وَاحِدَةٍ مِنْهُمَا الصَّدَاقُ، وَلا يَقْرَبُ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا امْرَأَتَهُ حَتَّى تَنْقَضِيَ عِدَّةُ أُخْتِهَا، وَيَرْجِعُ الزَّوْجَانِ عَلَى مَنْ غَرَّهُمَا بِالصَّدَاقِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ دو بھائیوں نے دو بہنوں سے نکاح کیا، اور (غلطی سے) ہر ایک کے پاس دوسرے کی بیوی داخل کر دی گئی۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ان دونوں کے درمیان جدائی کرا دی جائے گی، اور ہر عورت کو اس کا مہر دیا جائے گا، اور ان میں سے ہر مرد اپنی بیوی کے قریب نہ آئے جب تک کہ اس کی بہن کی عدت پوری نہ ہو جائے، اور دونوں شوہر اس شخص سے مہر واپس لیں گے جس نے انہیں دھوکہ دیا تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3296]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2119، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14368، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17764، 17766»
وضاحت: فائدہ: حدیث 2119 میں ازدواجی احکام، حرمتِ مصاہرت، اور نکاح کی شرائط سے متعلق ایک فقہی اثر ہے۔ اس میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کا ایک اہم فتویٰ بیان ہوا ہے جو ایسے معاملے میں دیا گیا جب دو بھائیوں نے دو بہنوں سے شادی کی، اور دونوں میں نکاح میں غلطی ہو گئی۔ یہ اثر ازدواجی نظام، عدت، حرمتِ جمع بین الأختین، اور غرور (دھوکہ دہی) کے شرعی اثرات کے باب میں نہایت بصیرت آموز ہے۔ یہ اثر "حسن الاسناد" ہے، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے فقہی اجتہاد پر مبنی ایک عملی فتویٰ ہے اس میں: ازدواجی غلطی کی اصلاح حقوقِ نسواں (مہر و عدت) کا تحفظ حرمتِ مصاہرت کی پاسداری اور دھوکہ دینے والے سے مالی تلافی کا حکم سب کچھ نہایت فقیہانہ اور عدل کے مطابق بیان کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسينصحابي