الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
184. باب ما جاء فيمن غزا وأبواه كارهان
باب: اُس شخص کا بیان جو جہاد کے لیے نکلا حالانکہ اس کے ماں باپ راضی نہ تھے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2334 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3511
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ ، أَنَّ دَرَّاجًا أَبَا السَّمْحِ ، حَدَّثَهُ عَنْ أَبِي الْهَيْثَمِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّ رَجُلا هَاجَرَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْيَمَنِ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي هَاجَرْتُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ هَجَرْتَ الشِّرْكَ، وَلَكِنَّهُ الْجِهَادُ، هَلْ لَكَ أَحَدٌ بِالْيَمَنِ؟" قَالَ: أَبَوَايَ، قَالَ:" أَذِنَا لَكَ؟" قَالَ: لا، قَالَ:" فَارْجِعْ، فَاسْتَأْذِنْهُمَا، فَإِنْ أَذِنَا لَكَ فَجَاهِدْ، وَإِلا فَبِرَّهُمَا" .
ایک یمنی شخص نے ہجرت کر کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا: ”میں نے ہجرت کی ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے شرک سے ہجرت کی ہے، لیکن کیا یمن میں تمہارے والدین ہیں؟“ عرض کیا: ”جی ہاں۔“ فرمایا: ”کیا انہوں نے اجازت دی؟“ کہا: ”نہیں۔“ فرمایا: ”واپس جاؤ، ان سے اجازت لو، اگر اجازت دیں تو جہاد کرو، ورنہ ان کی خدمت کرو۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3511]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 1111، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 422، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2515، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2530، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2334، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 17904، وأحمد فى «مسنده» برقم: 11900، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 1402»
دراج أبو السمح (مولى بني عامر، المصری)
قال إبن حجر: صدوق في حديثه عن أبي الهيثم، ضعف
ابو حاتم نے کہا: "يكتب حديثه ولا يحتج به"
یحییٰ بن معین: "ضعيف الحديث"
ابن عدی نے کہا: "عامة ما يرويه غير محفوظ"
اکثر محدثین کے نزدیک "ضعیف" ہے خاص طور پر جب وہ "ابو الهيثم" سے روایت کرتا ہے۔
دراج أبو السمح (مولى بني عامر، المصری)
قال إبن حجر: صدوق في حديثه عن أبي الهيثم، ضعف
ابو حاتم نے کہا: "يكتب حديثه ولا يحتج به"
یحییٰ بن معین: "ضعيف الحديث"
ابن عدی نے کہا: "عامة ما يرويه غير محفوظ"
اکثر محدثین کے نزدیک "ضعیف" ہے خاص طور پر جب وہ "ابو الهيثم" سے روایت کرتا ہے۔
وضاحت: دراج أبو السمح اگرچہ کچھ محدثین نے ان کے بارے میں نرمی کا اظہار کیا، لیکن جب وہ "ابو الهيثم" سے روایت کرے تو اس کی روایت ضعیف قرار دی گئی ہے۔ امام احمد، امام نسائی، ابن حبان، دارقطنی وغیرہ نے واضح طور پر اس سلسلۂ سند کو منکر یا غیر محفوظ کہا ہے۔ امام ترمذی نے بھی اس سند کے ساتھ آئی ہوئی احادیث کو اکثر غریب یا لیس بالقوی کہا ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
سليمان بن عمرو الليثي ← أبو سعيد الخدري