الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
184. باب ما جاء فيمن غزا وأبواه كارهان
باب: اُس شخص کا بیان جو جہاد کے لیے نکلا حالانکہ اس کے ماں باپ راضی نہ تھے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2337 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3514
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَوْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ طَلْحَةَ، أَرَادَ أَنْ يَغْزُوَ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَتْهُ، فَأَمَرَهُ عُمَرُ أَنْ يُطِيعَ أُمَّهُ، ثُمَّ أَرَادَ أَيْضًا فِي زَمَنِ عُثْمَانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَجَاءَتْ أُمُّهُ إِلَى عُثْمَانَ، فَأَخْبَرَتْهُ، فَأَمَرَهُ عُثْمَانُ أَنْ يَجْلِسَ، فَقَالَ: إِنَّ عُمَرَ أَمَرَنِي وَلَمْ يُجْبِرْنِي، فَقَالَ:" لَكِنِّي أُجْبِرُكَ" .
سیدنا یوسف بن عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہما جہاد کے لیے نکلنے کا ارادہ رکھتے تھے، ان کی ماں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئیں، تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں ماں کی اطاعت کا حکم دیا۔ پھر وہی معاملہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں ہوا، تو عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: ”میں تمہیں روک رہا ہوں۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3514]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2337، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 34148»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح