علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
190. باب ما جاء في الرجل يعطى الشيء يستعين به في سيبل الله
باب: اس شخص کے بارے میں بیان جسے کوئی چیز دی جائے تاکہ وہ اسے اللہ کی راہ میں (جہاد وغیرہ میں) استعمال کرے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2360 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3537
نا نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، أَنَّ عُمَرَ كَانَ " يَقْبَلُ مَا أُعْطِيَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَغَيْرِهِ" ، قَالَ بَكْرٌ: وَمَا رَأَيْنَا أَحَدًا يُنْكِرُ ذَلِكَ، وَلا يُغَيِّرُهُ. قَالَ قَالَ بَكْرٌ، وَأَخْبَرَنِي يَسَارٌ، عَنْ شَيْخٍ مِنَ الأَنْصَارِ، أَنَّ رَجُلا لَقِيَهُ، فَقَالَ: " أَغَازٍ أَنْتَ؟" قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" أَمْسِكْ هَذِهِ الْخَمْسَةَ الدَّنَانِيرَ فَاقْبَلْهَا" ، قَالَ بَكْرٌ:" وَتَصْنَعُ فِيمَا أُعْطِيتَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ مَا كُنْتَ صَانِعًا بِمَالِكَ.
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ راہِ خدا میں دیے جانے والے مال کو قبول کرتے تھے اور اس میں کوئی برائی نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3537]
تخریج الحدیث: «مرسل ولکن الحدیث صحيح، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: پہلا حصہ (سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول): ✔️ ثقہ رواة سے مروی ہے، اثرِ صحیح ہے۔ دوسرا حصہ (شیخ انصاری کا واقعہ): ❌ سند میں مجہول شیخ ہونے کی وجہ سے ضعیف ہے۔ تاہم بکر بن سوادہ کے اپنے تبصرے سے واضح ہوتا ہے کہ: "فی سبیل اللہ دی گئی چیز پر انسان ذاتی تصرف کا حق رکھتا ہے، جب وہ اس کے سپرد ہو جائے"
الحكم على الحديث: مرسل ولکن الحدیث صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥اسم مبهم | 0 | |
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص عمر بن الخطاب العدوي ← اسم مبهم | صحابي |
Sunan Saeed bin Mansur Hadith 3537 in Urdu
عمر بن الخطاب العدوي ← اسم مبهم