سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
161. قوله تعالى: {فما لكم فى المنافقين فئتين والله أركسهم بما كسبوا} .
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ» کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 663 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 663
نا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنِ ابْنِ سَعْدِ بْنِ مُعَاذٍ , قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ فَقَالَ: " مَنْ لِي مِمَّنْ يُؤْذِينِي وَيَجْمَعُ فِي بَيْتِهِ مَنْ يُؤْذِينِي؟" فَقَالَ سَعْدُ بْنُ مُعَاذٍ: إِنْ كَانَ مِنَ الأَوْسِ قَتَلْنَاهُ، وَإِنْ كَانَ مِنْ إِخْوَانِنَا مِنَ الْخَزْرَجِ أَمَرْتَنَا فَأَطَعْنَاكَ، فَقَامَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ، فَقَالَ: مَا بِكَ يَا ابْنَ مُعَاذٍ طَاعَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَقَدْ تَكَلَّمْتَ مَا هُوَ مِنْكَ، فَقَامَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ , فَقَالَ: إِنَّكَ يَا ابْنَ عُبَادَةَ مُنَافِقٌ، وَتُحِبُّ الْمُنَافِقِينَ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ , فَقَالَ: اسْكُتُوا أَيُّهَا النَّاسُ، فَإِنَّ فِينَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ يَأْمُرُنَا فَنُنَفِّذُ أَمْرَهُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا سورة النساء آية 88 .
ابن سعد بن معاذ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا: مجھے ان لوگوں سے کون نجات دلائے گا جو مجھے اذیت دیتے ہیں اور اپنے گھروں میں ان لوگوں کو جگہ دیتے ہیں جو مجھے تکلیف پہنچاتے ہیں؟ تو سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر وہ شخص اوس میں سے ہے تو ہم اسے قتل کریں گے، اور اگر وہ ہمارے بھائی خزرج میں سے ہے تو آپ ہمیں حکم دیں، ہم آپ کی اطاعت کریں گے۔ اس پر سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہنے لگے: اے ابن معاذ! تمہیں کیا ہوا؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت اپنی جگہ، لیکن تم نے ایسی بات کہی جو تمہارے شایانِ شان نہیں۔ تو سیدنا اسید بن حضیر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: اے ابن عبادہ! تم منافق ہو اور منافقین سے محبت کرتے ہو۔ اس پر سیدنا محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور فرمایا: لوگو! خاموش ہو جاؤ، بےشک ہمارے درمیان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں، وہ ہمیں جو حکم دیں گے ہم اسے بجا لائیں گے۔ تب اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرمائی: ﴿فَمَا لَكُمْ فِي الْمُنَافِقِينَ فِئَتَيْنِ وَاللَّهُ أَرْكَسَهُمْ بِمَا كَسَبُوا﴾ ۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 663]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: سنده فيه زيد بن أسلم ولم يتضح هل سمع من ابن سعد بن معاذ أَوْلا؟ وزيد معروف بالإرسال كما في ترجمته في الحديث [٣٩٨]،
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥اسم مبهم | 0 | |
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله زيد بن أسلم القرشي ← اسم مبهم | ثقة | |
👤←👥عبد العزيز بن محمد الدراوردي، أبو محمد عبد العزيز بن محمد الدراوردي ← زيد بن أسلم القرشي | صدوق حسن الحديث |
زيد بن أسلم القرشي ← اسم مبهم