صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
383. باب الاستعاذة - ذكر الأمر بالاستعاذة بالله جل وعلا من الفتن ما ظهر منها وما بطن
پناہ مانگنے کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ اللہ جل وعلا سے فتنوں سے پناہ مانگی جائے، خواہ وہ ظاہر ہوں یا باطن
حدیث نمبر: 1000
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا خَالِدٌ ، عَنِ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ فِي حَائِطٍ لِبَنِي النَّجَّارِ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُوَ عَلَى بَغْلَةٍ، فَحَادَتْ بِهِ بَغْلَتُهُ، فَإِذَا فِي الْحَائِطِ أَقْبُرٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ يَعْرِفُ هَؤُلاءِ الأَقْبُرَ؟" فَقَالَ رَجُلٌ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" مَا هُمْ؟" قَالَ: مَاتُوا فِي الشِّرْكِ، قَالَ:" لَوْلا أَنْ لا تَدَافَنُوا، لَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يُسْمِعَكُمْ عَذَابَ الْقَبْرِ الَّذِي أَسْمَعُ مِنْهُ، إِنَّ هَذِهِ الأُمَّةَ تُبْتَلَى فِي قُبُورِهَا". ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، فَقَالَ: " تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَعَذَابِ الْقَبْرِ، وَتَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنَ الْفِتَنِ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، تَعَوَّذُوا بِاللَّهِ مِنْ فِتْنَةِ الدَّجَّالِ" .
سیدنا ابوسعید خدری بیان کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ بنونجار کے ایک باغ میں موجود تھے۔ آپ اس وقت ایک خچر پر سوار تھے۔ وہ آپ کو لے کر چل رہا تھا۔ باغ میں کچھ قبریں موجود تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ان قبروں کے بارے میں کون جانتا ہے؟ ایک صاحب نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: یہ کون تھے؟ ان صاحب نے عرض کی: یہ شرک پر مرے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ تم ایک دوسرے کو (یعنی اپنے مردوں کو) دفن کرنا چھوڑ دو گے تو میںاللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرتا کہ وہ تمہیں قبر کے عذاب کے حوالے سے وہ (آوازیں سنائے جو میں نے سنی ہیں۔ بے شک اس امت کی ان کی قبروں میں آزمائش ہو گی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہماری طرف رخ کیا اور ارشاد فرمایا: ”جہنم کے عذاب اور قبر کے عذاب سےاللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، ظاہری اور باطنی فتنوں سےاللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو، دجال کے فتنے سےاللہ تعالیٰ کی پناہ مانگو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الرقائق/حدیث: 1000]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 996»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، وخالد: هو ابن عبد الله الواسطي، وأبو نضرة إسمه: المنذر بن مالك.
الرواة الحديث:
المنذر بن مالك العوفي ← أبو سعيد الخدري