صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
38. ذكر الخبر الدال على أن العالم عليه ترك التصلف بعلمه ولزوم الافتقار إلى الله جل وعلا في كل حاله-
- اس خبر کا ذکر کہ عالم پر لازم ہے کہ اپنے علم پر فخر و غرور نہ کرے بلکہ ہر حال میں اللہ جل و علا کا محتاج و نیاز مند بن کر رہے۔
حدیث نمبر: 102
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ تَمَارَى هُوَ وَالْحُرُّ بْنُ قَيْسِ بْنِ حِصْنٍ الْفَزَارِيُّ فِي صَاحِبِ مُوسَى، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: هُوَ الْخَضِرُ، فَمَرَّ بِهِمَا أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، فَدَعَاهُ ابْنُ عَبَّاسٍ، فَقَالَ: يَا أَبَا الطُّفَيْلِ، هَلُمَّ إِلَيْنَا، فَإِنِّي قَدْ تَمَارَيْتُ أَنَا وَصَاحِبِي هَذَا فِي صَاحِبِ مُوسَى الَّذِي سَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَهَلْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِيهِ شَيْئًا؟ فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " بَيْنَمَا مُوسَى فِي مَلأٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، إِذْ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ لَهُ: هَلْ تَعْلَمُ أَحَدًا أَعْلَمَ مِنْكَ؟ فَقَالَ مُوسَى: لا، فَأَوْحَى الِلَّهِ إِلَى مُوسَى: بَلْ عَبْدُنَا الْخَضِرُ، فَسَأَلَ مُوسَى السَّبِيلَ إِلَى لُقِيِّهِ، فَجَعَلَ الِلَّهِ لَهُ الْحُوتَ آيَةً، وَقِيلَ لَهُ: فَقَدْتَ الْحُوتَ، فَارْجِعْ فَإِنَّكَ تَلَقَّاهُ، فَسَارَ مُوسَى مَا شَاءَ الِلَّهِ أَنْ يَسِيرَ، ثُمَّ قَالَ لِفَتَاهُ: آتِنَا غَدَاءَنَا، فَقَالَ لِمُوسَى حِينَ سَأَلَهُ الْغَدَاءَ: أَرَأَيْتَ إِذْ أَوَيْنَا إِلَى الصَّخْرَةِ، فَإِنِّي نَسِيتُ الْحُوتَ، وَمَا أَنْسَانِيهِ إِلا الشَّيْطَانُ أَنْ اذْكُرَهُ، وَقَالَ مُوسَى لِفَتَاهُ: ذَلِكَ مَا كُنَّا نَبْغِي، فَارْتَدَّا عَلَى آثَارِهِمَا قَصَصًا، فَوَجَدَا خَضِرًا، وَكَانَ مِنْ شَأْنِهِمَا مَا قَصَّ الِلَّهِ فِي كِتَابِهِ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: ایک مرتبہ ان کی اور حر بن قیس فزاری کی سیدنا موسی علیہ السلام کے ساتھی کے بارے میں ملاقات ہو گئی (یعنی جن سے ملنے کے لئے سیدنا موسیٰ علیہ السلام گئے تھے)۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کا کہنا تھا: وہ سیدنا خضر علیہ السلام تھے۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ دونوں صاحبان کے پاس سے گزرے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے انہیں بلایا اور بولے: اے ابوطفیل! آپ ہمارے پاس تشریف لائے۔ میری اور میرے اس ساتھی کی سیدنا موسیٰ علیہ السلام کے واقعے والے ان صاحب کے بارے میں بحث ہو گئی ہے، جس کے بارے میں سیدنا موسی علیہ السلام نے یہ دعا مانگی تھی کہ ان سے ملاقات کا راستہ مل جائے، تو کیا آپ نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”ایک مرتبہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام، بنی اسرائیل کے ایک گروہ میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اسی دوران ایک شخص ان کے پاس آیا اور ان سے دریافت کیا: کیا آپ کسی ایسے شخص سے واقف ہیں؟ جو آپ سے زیادہ علم رکھتا ہو؟ تو سیدنا موسی علیہ السلام نے جواب دیا: جی نہیں۔ تواللہ تعالیٰ نے سیدنا موسی علیہ السلام کی طرف وحی کی (ایسا نہیں ہے) بلکہ ہمارا بندہ خضر (تم سے زیادہ علم رکھتا ہے) تو سیدنا موسی علیہ السلام نے ان سے ملاقات کی دعا مانگی،اللہ تعالیٰ نے مچھلی کو ان کے لئے نشانی قرار دیا ان سے یہ کہا: گیا: جب تم مچھلی کو گم کرو گے، تو تم واپسی کی طرف آنا تمہاری اس سے ملاقات ہو جائے گی۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام روانہ ہوئے اور جتنا اللہ کو منظور تھا وہ چلتے رہے۔ انہوں نے اپنے ساتھی سے کہا: ہمارا کھانا ہمارے پاس لے کر آؤ، تو اس نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کہا: اس وقت جب سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے کھانا طلب کیا تھا، کیا آپ نے یہ بات ملاحظہ فرمائی؟ جب ہم چٹان کے سائے میں آئے تھے، تو میں مچھلی کو بھول گیا تھا۔ اور اس کا ذکر کرنا مجھے شیطان نے ہی بھلایا تھا۔ تو سیدنا موسیٰ علیہ السلام نے اپنے ساتھی سے کہا: یہ وہ جگہ ہے، جسے ہم تلاش کر رہے تھے، تو وہ دونوں اپنے قدموں کے نشانات پر چلتے ہوئے واپس آئے، تو ان دونوں نے سیدنا خضر علیہ السلام کو پا لیا، پھر ان دونوں کا وہ واقعہ ہے، جواللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں بیان کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 102]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
عبد الله بن العباس القرشي ← أبي بن كعب الأنصاري