پی ڈی ایف کتاب کو ٹیکسٹ میں کیسے کنورٹ کیا جاتا ہے سیکھنے کے لیے ہماری کلاس جوائن کریں اپنے آپ کو رجسٹر کیجیے۔ مزید تفصیلات کے لیے اس نمبر پر رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1. ذكر إثبات الإيمان للمحافظ على الوضوء
-
حدیث نمبر: 1037
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ ، وَأَبُو خَيْثَمَةَ ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ ثَوْبَانَ ، حَدَّثَنِي حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ ، أَنَّ أَبَا كَبْشَةَ السَّلُولِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ ثَوْبَانَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَدِّدُوا وَقَارِبُوا، وَاعْلَمُوا أَنَّ خَيْرَ أَعْمَالِكُمُ الصَّلاةُ، وَلا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلا مُؤْمِنٌ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ مِمَّا ذَكَرْنَا فِي كُتُبِنَا، أَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ الاسْمَ بِالْكُلِّيَّةِ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَاءِ شَيْءٍ يُطْلَقُ اسْمُ ذَلِكَ الشَّيْءِ عَلَى جُزْءٍ مِنْ أَجْزَائِهِ. فَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا يُحَافِظُ عَلَى الْوُضُوءِ إِلا مُؤْمِنٌ" أَطْلَقَ اسْمَ الإِيمَانِ عَلَى الْمُحَافِظِ عَلَى الْوُضُوءِ، وَالْوُضُوءُ مِنْ أَجْزَاءِ الإِيمَانِ، كَذَلِكَ اسْمُ الإِيمَانِ عَلَى الْمُفْرِدِ الْعَمَلَ بِهِ، لأَنَّهُ جُزْءٌ مِنْ أَجْزَاءِ الإِيمَانِ عَلَى حَسَبِ مَا ذَكَرْنَاهُ. وَخَبَرُ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ ثَوْبَانَ خَبَرٌ مُنْقَطِعٌ، فَلِذَلِكَ تَنَكَّبْنَاهُ.
سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”تم سنت کی پیروی کرو اور میانہ روی اختیار کرو۔“ اور یہ بات جان لو کہ تمہارے اعمال میں سب سے بہتر نماز ہے، اور وضو کی حفاظت صرف مومن کرتا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ الفاظ ہیں، جن کا ہم اپنی کتابوں میں کئی بار ذکر کر چکے ہیں، عرب اپنے محاور ے میں کسی چیز کے مختلف اجزاء میں سے کسی ایک جز پر مکمل چیز کا نام استعمال کرتے ہیں۔ وہ اس چیز کے نام کو اس ایک جز کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”وضو کی حفاظت صرف مومن کرے گا۔“ یہاں لفظ ایمان کے لفظ کا اطلاق وضو کی حفاظت کرنے والے پر کیا گیا ہے۔ حالانکہ وضو ایمان کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ اس طرح لفظ ایمان کا اطلاق ایک ایسی مفرد چیز پر کیا گیا ہے، جس پر عمل کیا جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے، یہ ایمان کے اجزاء میں سے ایک جزء ہے۔ جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ سالم بن ابوالجعد نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو روایت نقل کی ہے وہ ”منقطع“ ہے۔ اس لئے ہم نے اس سے پہلو تہی کی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1037]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1037، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 446، 447، 448، والدارمي فى (مسنده) برقم: 681، 682، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 277، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 384، 2184، وأحمد فى (مسنده) برقم: 22812» «رقم طبعة با وزير 1034»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «الصحيحة» (115)، «الروض» (177).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح، إسناده حسن، رجاله رجال البخاري عدا ابن ثوبان- واسمه عبد الرحمن- وهو حسن الحديث.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1037 in Urdu
أبو كبشة السلولي ← ثوبان بن بجدد القرشي