صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
22. باب فرض الوضوء - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن الكعب هو العظم الناتئ على ظاهر القدم دون العظمين الناتئين على جانبهما
وضو کی فضیلت کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ کعب سے مراد پاؤں کی ظاہری ہڈی ہے، نہ کہ اس کے دونوں اطراف کی نکلتی ہوئی ہڈیوں سے
حدیث نمبر: 1058
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَزِيدَ اللَّيْثِيَّ أَخْبَرَهُ، أَنَّ حُمْرَانَ مَوْلَى عُثْمَانَ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وَغَسَلَ كَفَّهُ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ مَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهَ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْمِرْفَقِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ يَدَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمَّ مَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُمْنَى إِلَى الْكَعْبَيْنِ ثَلاثَ مَرَّاتٍ، ثُمَّ غَسَلَ رِجْلَهُ الْيُسْرَى مِثْلَ ذَلِكَ، ثُمّ قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ تَوَضَّأَ نَحْوَ وُضُوئِي هَذَا، ثُمَّ قَامَ فَرَكَعَ رَكْعَتَيْنِ لا يُحَدِّثُ فِيهِمَا نَفْسَهُ، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
حمران بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے وضو کا پانی منگوایا اور وضو کیا، انہوں نے اپنے ہاتھ تین مرتبہ دھوئے، پھر کلی کی، پھر ناک میں پانی ڈالا، پھر اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دائیں بازو کو کہنی تک تین مرتبہ دھویا، پھر بائیں بازو کو اسی طرح دھویا، پھر اپنے سر کا مسح کیا، پھر دائیں پاؤں کو ٹخنوں تک دھویا، پھر بائیں پاؤں کو اسی طرح دھویا، پھر یہ بات بیان کی: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے اس وضو کی طرح وضو کرتے دیکھا، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو شخص میرے اس وضو کی طرح وضو کرے اور پھر اٹھ کر دو رکعات ادا کرے، اس دوران وہ اپنے خیالوں میں گم نہ ہو، تو اللہ تعالیٰ اس کے گزشتہ گناہوں کی مغفرت کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1058]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 159، 160، 164، 1934، 6433، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 226، ومالك فى (الموطأ) برقم: 83، وابن الجارود فى "المنتقى"، 74، 79، 80، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2، 3، 151، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 360، 1041، 1043، 1058، 1060، 1081، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 529، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 84، وأبو داود فى (سننه) برقم: 106، والترمذي فى (جامعه) برقم: 31، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 285، 285 م، 413، والدارقطني فى (سننه) برقم: 271، 283، وأحمد فى (مسنده) برقم: 407» «رقم طبعة با وزير 1055»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (94): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، ويونس: هو أبن يزيد الأيلي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1058 in Urdu
حمران بن أبان النمري ← عثمان بن عفان