یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
21. باب فرض الوضوء - ذكر العلة التي من أجلها كان يمسح علي بن أبي طالب رضوان الله عليه رجليه في وضوئه
وضو کی فضیلت کا بیان - اس وجہ کا ذکر کہ جس کی بنا پر علی بن ابی طالب رضوان اللہ علیہ اپنے وضو میں پاؤں پر مسح کرتے تھے
حدیث نمبر: 1057
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنِ النَّزَّالِ بْنِ سَبْرَةَ ، قَالَ: صَلَّيْتُ مَعَ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الظُّهْرَ، ثُمَّ انْطَلَقَ إِلَى مَجْلِسٍ لَهُ كَانَ يَجْلِسُهُ فِي الرَّحَبَةِ، فَقَعَدَ وَقَعَدْنَا حَوْلَهُ حَتَّى حَضَرَتِ الْعَصْرُ، فَأُتِيَ بِإِنَاءٍ فِيهِ مَاءٌ، فَأَخَذَ مِنْهُ كَفًّا، فَتَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ رِجْلَيْهِ، ثُمَّ قَامَ فَشَرِبَ فَضْلَ إِنَائِهِ، ثُمَّ قَالَ:" إِنِّي حُدِّثْتُ أَنَّ رِجَالا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبَ أَحَدُهُمْ وَهُوَ قَائِمٌ، وَإِنِّي رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَ كَمَا فَعَلْتُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ" .
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا علی بن ابوطالب صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی پھر وہ اس بیٹھک کی طرف تشریف لے گئے جہاں وہ کھلے میدان میں بیٹھتے تھے وہ تشریف فرما ہوئے ان کے ارد گرد ہم بھی بیٹھ گئے پھر عصر کی نماز کا وقت ہوا تو ایک برتن لایا گیا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اس میں سے ایک چلو لیا اس کے ذریعے کلی کی ناک صاف کیا۔ اپنے چہرے اور دونوں بازوؤں کا مسح کیا۔ اپنے سر کا مسح کیا۔ دونوں پاؤں کا مسح کیا پھر وہ کھڑے ہوئے انہوں نے اس برتن میں بچے ہوئے پانی کو پی لیا پھر انہوں نے یہ بات بیان کی۔ مجھے یہ بات بیان کی گئی ہے لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، وہ کھڑے ہو کر پانی پئیں۔ حالانکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے، جس طرح میں نے کیا ہے یہ اس شخص کا وضو ہے، جو پہلے سے باوضو ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1057]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 5615، 5616، وابن الجارود فى "المنتقى"، 75، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 16، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1056، 1057، 1079، 1340، 1341، 5326، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 91، وأبو داود فى (سننه) برقم: 111، والترمذي فى (جامعه) برقم: 44، 48، 49، والدارمي فى (مسنده) برقم: 728، 729، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 396، 404، 436، 456، والدارقطني فى (سننه) برقم: 298، وأحمد فى (مسنده) برقم: 593، 888» «رقم طبعة با وزير 1054»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (105)، «مختصر الشمائل» (179).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1057 in Urdu
النزال بن سبرة الهلالي ← علي بن أبي طالب الهاشمي