صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
35. باب سنن الوضوء - ذكر الإباحة للإمام أن يستاك بحضرة رعيته إذا لم يكن يحتشمهم فيه
وضو کی سنتوں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ امام کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنی رعایا کے سامنے مسواک کرے اگر اسے ان کے سامنے شرم نہ ہو
حدیث نمبر: 1071
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، وَعُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالا: حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي حُمَيْدُ بْنُ هِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو بُرْدَةَ ، عَنْ أَبِي مُوسَى ، قَالَ: أَقْبَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَمَعِيَ رَجُلانِ مِنَ الأَشْعَرِيِّينَ، أَحَدُهُمَا عَنْ يَمِينِي، وَالآخَرُ عَنْ يَسَارِي، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْتَاكُ، فَكِلاهُمَا سَأَلا الْعَمَلَ، قُلْتُ: وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ مَا أَطْلَعَانِي عَلَى مَا فِي أَنْفُسِهِمَا، وَمَا شَعَرْتُ أَنَّهُمَا يَطْلُبَانِ الْعَمَلَ، فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى سِوَاكِهِ تَحْتَ شَفَتِهِ قَلَصَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنَّا لا أَوْ لَنْ نَسْتَعِينَ عَلَى عَمَلِنَا مَنْ أَرَادَهُ، لَكِنِ اذْهَبْ أَنْتَ" فَبَعَثَهُ عَلَى الْيَمَنِ ، ثُمَّ أَرْدَفَهُ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ.
سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا میرے ساتھ اشعر قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو افراد بھی تھے۔ ان میں سے ایک میرے دائیں طرف تھا اور دوسرا میرے بائیں طرف تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت مسواک کر رہے تھے۔ ان دونوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی سرکاری ذمہ داری کی درخواست کی۔ میں نے عرض کی: اس ذات کی قسم! جس نے آپ کو حق کے ہمراہ مبعوث کیا ہے۔ انہوں نے مجھے نہیں بتایا تھا کہ ان کے ذہن میں کیا ہے، اور مجھے بھی یہ اندازہ نہیں ہوا کہ یہ کسی سرکاری ذمہ داری کا مطالبہ کریں گے۔ (سیدنا ابوموسیٰ بیان کرتے ہیں) گویا کہ میں اس وقت بھی یہ منظر دیکھ رہا ہوں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ کے نیچے مسواک تھی۔ جسے آپ چبا رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”ہم اپنے (ریاستی) کاموں میں ایسے شخص کو مامور نہیں کریں گے جو اس (عہدے) کا طالب گار ہو البتہ تم چلے جاؤ۔“ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کو یمن بھیج دیا، اور پھر ان کے پیچھے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو بھجوایا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1071]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1068»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← عبد الله بن قيس الأشعري