صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
131. باب الغسل - ذكر ما كان على من أكسل في أول الإسلام سوى الاغتسال من الجنابة
غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اکسال سے جنابت کے غسل کے علاوہ کیا تھا
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ فُلانٌ؟" فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلا، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ عَنْ حَاجَتِكَ" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَجَلْ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أُعْجِلْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ، أَوْ أُقْحِطَ، فَلا غُسْلَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَتَوَضَّأَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے، آپ کا گزر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”فلاں شخص کہاں ہے؟“ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا، وہ شخص جلدی سے اندر سے باہر آیا، اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”شاید ہم نے تمہاری ضرورت کے حوالے سے تمہیں جلدی کرنے پر مجبور کیا ہے۔“ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں! اللہ کی قسم! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے جلدی کرنی پڑی۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی کو جلدی سے کوئی کام کرنا ہو یا اسے (وقت کی تنگی ہو)، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا، اس پر وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 180، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 343، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 233، 234، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1168، 1171، وأبو داود فى (سننه) برقم: 217، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 606، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11200» «رقم طبعة با وزير 1168»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (210): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح خلا محمد بن وهب بن أبي كريمة، وهو صدوق.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1171 in Urdu
أبو صالح السمان ← أبو سعيد الخدري