🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

131. باب الغسل - ذكر ما كان على من أكسل في أول الإسلام سوى الاغتسال من الجنابة
غسل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں اکسال سے جنابت کے غسل کے علاوہ کیا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1170
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: قُلْتُ: أَرَأَيْتَ أَحَدَنَا إِذَا جَامَعَ الْمَرْأَةَ فَأَكْسَلَ وَلَمْ يُمْنِ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لِيَغْسِلْ ذَكَرَهُ وَأُنْثَيَيْهِ، وَلْيَتَوَضَّأْ ثُمَّ لِيُصَلِّ" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے عرض کی: اس مسئلے کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے کوئی شخص اپنی بیوی کے ساتھ صحبت کرتا ہے، اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اسے چاہئے کہ اپنی شرم گاہ کو اپنے خصیوں کو دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1170]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1167»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
محمد بن عبد ربه، ذكره المؤلف في «الثقات» 9/ 107، وقال: يخطئ ويخالف، وقد تابعه عليه نعيم بن حماد عند الطحاوي 1/ 54، وباقي رجاله ثقات، وانظر الحديث الذي قبله.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1171
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَعْشَرٍ ، بِحَرَّانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ أَبِي كَرِيمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ ، يَقُولُ: خَرَجْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا، حَتَّى مَرَّ بِدَارِ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيْنَ فُلانٌ؟" فَدَعَاهُ، فَخَرَجَ الرَّجُلُ مُسْتَعْجِلا، يَقْطُرُ رَأْسُهُ مَاءً، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاكَ عَنْ حَاجَتِكَ" فَقَالَ الرَّجُلُ: أَجَلْ، وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَقَدْ أُعْجِلْتُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا عَجِلَ أَحَدُكُمْ، أَوْ أُقْحِطَ، فَلا غُسْلَ عَلَيْهِ، إِنَّمَا عَلَيْهِ أَنْ يَتَوَضَّأَ" .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک دن ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ جا رہے تھے آپ کا گزر ایک انصاری رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس سے ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فلاں شخص کہاں ہے۔ راوی کہتے ہیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلوایا وہ شخص جلدی سے اندر سے باہر آیا اس کے سر سے پانی ٹپک رہا تھا۔ نبی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: شاید ہم نے تمہاری ضرورت کے حوالے سے تمہیں جلدی کرنے پر مجبور کیا ہے۔ اس شخص نے عرض کی: جی ہاں اللہ کی قسم! یا رسول اللہ مجھے جلدی کرنی پڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کسی کو جلدی سے کوئی کام کرنا ہو یا اسے (وقت کی تنگی ہو، تو اس پر غسل لازم نہیں ہوتا۔ اس پر وضو کرنا لازم ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1171]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1168»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (210): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح خلا محمد بن وهب بن أبي كريمة، وهو صدوق.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1172
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عِيسَى الْبِسْطَامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ حَدَّثَهُ، أَنَّ عَطَاءَ بْنَ يَسَارٍ حَدَّثَهُ، أَنَّ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّهُ سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ يُجَامِعُ، فَلا يُنْزِلُ، فَقَالَ:" لَيْسَ عَلَيْهِ غُسْلٌ". ثُمَّ قَالَ عُثْمَانُ: سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ: فَسَأَلْتُ بَعْدَ ذَلِكَ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ ، وَالزُّبَيْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ ، وَأُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ ، فَقَالُوا مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ أَبُو سَلَمَةَ: وَحَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا أَيُّوبَ ، فَقَالَ: مِثْلَ ذَلِكَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
زید بن خالد بیان کرتے ہیں۔ انہوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کیا جو صحبت کرتا ہے اور اسے انزال نہیں ہوتا، تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے بتایا ایسے شخص پر غسل لازم نہیں ہوتا پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے یہ بات بتائی۔ میں نے یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زبانی سنی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: بعد میں، میں نے سیدنا علی بن ابوطالب، سیدنا زبیر بن عوام، سیدنا طلحہ بن عبیداللہ اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہم سے دریافت کیا، تو ان حضرات نے بھی اسی کی مانند جواب دیا: ابوسلمہ نامی راوی بیان کرتے ہیں۔ عروہ بن زبیر نے یہ بات بتائی ہے، انہوں نے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے اس بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے اسی کی مانند بات بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 1172]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1169»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على ابن خزيمة» (224).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں