صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
293. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذه اللفظة تفرد بها جرير بن عبد الحميد
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتی ہے کہ یہ لفظ جریر بن عبد الحمید نے تنہا بیان کیا
حدیث نمبر: 1341
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ ، عَنْ زَائِدَةَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي النَّزَّالُ بْنُ سَبْرَةَ ، قَالَ:" صَلَّيْنَا مَعَ عَلِيٍّ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الظُّهْرَ، ثُمَّ خَرَجْنَا إِلَى الرَّحَبَةِ، فَدَعَا بِإِنَاءٍ فِيهِ شَرَابٌ، فَأَخَذَهُ فَمَضْمَضَ وَاسْتَنْشَقَ، وَمَسَحَ وَجْهَهُ وَذِرَاعَيْهِ وَرَأْسَهُ وَقَدَمَيْهِ، ثُمَّ شَرِبَ فَضْلَهُ وَهُوَ قَائِمٌ، ثُمَّ قَالَ: إِنَّ نَاسًا يَكْرَهُونَ أَنْ يَشْرَبُوا وَهُمْ قِيَامٌ، إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَنَعَ مِثْلَ مَا صَنَعْتُ، وَهَذَا وُضُوءُ مَنْ لَمْ يُحْدِثْ" .
نزال بن سبرہ بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں ظہر کی نماز ادا کی پھر ہم کھلے میدان کی طرف آ گئے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ایک برتن منگوایا جس میں پانی موجود تھا۔ انہوں نے اسے لیا اس کے ذریعے کلی کی ناک میں پانی ڈالا چہرے دونوں بازوؤں اور اپنے سر اور دونوں پاؤں پر مسح کیا پھر انہوں نے باقی بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پی لیا پھر آپ نے فرمایا: کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، کہ وہ کھڑے ہو کر پانی پی لیں، جب کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح کیا ہے، جس طرح میں نے کیا ہے، اور یہ اس شخص کا وضو ہے، جو پہلے بے وضو نہ ہوا ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1341]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1338»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وزائدة: هو ابن قدامة الثقفي.
الرواة الحديث:
النزال بن سبرة الهلالي ← علي بن أبي طالب الهاشمي