صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
616. باب فرض الجماعة والأعذار التي تبيح تركها - ذكر إسقاط الحرج عن آكل ما وصفنا نيئا مع شهوده الجماعة إذا كان معذورا من علة يداوى بها
جماعت کی فرضیت اور وہ عذر جو اسے چھوڑنے کی اجازت دیتے ہیں کا بیان - اس بات کا ذکر کہ ہمارے بیان کردہ چیزوں کو کچا کھانے والے پر جماعت میں شرکت کا حرج اٹھا لیا جاتا ہے اگر وہ کسی بیماری کے علاج کے لیے معذور ہو
حدیث نمبر: 2095
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلالٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ أَبِي بُرْدَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: أَكَلْتُ ثُومًا، ثُمَّ أَتَيْتُ مُصَلَّى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَبَقَنِي بِرَكْعَةٍ، فَلَمَّا قُمْتُ أَقْضِي وَجَدَ رِيحَ الثُّومِ، فَقَالَ: " مَنْ أَكَلَ مِنْ هَذِهِ الْبَقْلَةِ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا حَتَّى يَذْهَبَ رِيحُهَا". قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَلَمَّا قَضَيْتُ الصَّلاةَ أَتَيْتُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي عُذْرًا فَنَاوِلْنِي يَدَكَ، فَنَاوَلَنِي فَوَجَدْتُهُ وَاللَّهِ سَهْلا، فَأَدْخَلْتُهَا فِي كُمِّي إِلَى صَدْرِي فَوَجَدَهُ مَعْصُوبًا، فَقَالَ:" إِنَّ لَكَ عُذْرًا" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ الأَشْيَاءُ الَّتِي وَصَفْنَاهَا هِيَ الْعُذْرُ الَّذِي فِي خَبَرِ ابْنِ عَبَّاسٍ الَّذِي لا حَرَجَ عَلَى مَنْ بِهِ حَالَةٌ مِنْهَا فِي تُخَلُّفِهِ، عَنْ أَدَاءِ فَرْضِهِ جَمَاعَةً، وَعَلَيْهِ إِثْمُ تَرْكِ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ، لأَنَّهُمَا فَرْضَانِ اثْنَانِ: الْجَمَاعَةُ، وَأَدَاءُ الْفَرْضِ، فَمَنْ أَدَّى الْفَرْضَ وَهُوَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ، فَقَدْ سَقَطَ عَنْهُ فَرْضُ أَدَاءِ الصَّلاةِ، وَعَلَيْهِ إِثْمُ تَرْكِ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ، وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَلَمْ يُجِبْ، فَلا صَلاةَ لَهُ إِلا مِنْ عُذْرٍ"، أَرَادَ بِهِ: فَلا صَلاةَ لَهُ مِنْ غَيْرِ إِثْمٍ يَرْتَكِبُهُ فِي تُخَلُّفِهِ عَنْ إِتْيَانِ الْجَمَاعَةِ إِذَا كَانَ الْقَصْدُ فِيهِ ارْتِكَابُ النَّهْيِ، لا أَنَّ صَلاتَهُ غَيْرُ مُجْزِئَةٍ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ بِمَعْذُورٍ إِذَا لَمْ يُجِبْ دَاعِيَ اللَّهِ، وَهَذَا كَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لَغَا فَلا جُمُعَةَ لَهُ"، يُرِيدُ بِهِ: فَلا جُمُعَةَ لَهُ مِنْ غَيْرِ إِثْمٍ يَرْتَكِبُهُ بِلَغْوِهِ.
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے لہسن کھایا پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی جائے نماز پر آیا، تو میں نے آپ کو پایا، آپ ایک رکعت ادا کر چکے ہیں جب میں باقی رہ جانے والی ایک رکعت ادا کرنے کے لیے کھڑا ہوا، تو آپ کو لہسن کی بو محسوس ہوئی۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جو شخص اس سبزی کو کھاتا ہے وہ ہماری مسجد کے قریب ہرگز نہ آئے جب تک اس سبزی کی بو ختم نہیں ہو جاتی۔ سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب میں نے نماز مکمل کی تو میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! میری طرف سے معذرت قبول کیجئے اور اپنا دست مبارک میری طرف بڑھائیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک میری طرف بڑھایا تو اللہ کی قسم! میں نے اسے نرم پایا۔ میں نے اسے اپنی آستین میں سے سینے تک داخل کیا، تو آپ کو اس میں پٹی بندھی ہوئی محسوس ہوئی تو آپ نے ارشاد فرمایا: تمہارا عذر (قابل قبول ہے) (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ وہ اشیاء ہیں جن کا ہم نے ذکر کیا ہے کہ وہ عذر ہیں جن کا تذکرہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں ہے۔ یہ وہ عذر ہیں کہ جب کسی شخص کو ان میں سے کوئی ایک عند لاحق ہو۔ تو اگر وہ جماعت کے ساتھ اپنے فرض کی ادائیگی میں شریک نہیں ہوتا تو اسے کوئی گناہ نہیں ہو گا البتہ اسے جماعت کی طرف آنے کو ترک کرنے کا گناہ ہو گا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ دو فرض ہیں۔ جماعت کے ساتھ نماز ادا کرنا اور فرض (نماز) کو ادا کرنا۔ تو جو شخص فرض ادا کر لیتا ہے۔ حالانکہ وہ اذان کی آواز سنتا ہے۔ تو اس سے نماز کی ادائیگی کا فرض ساقط ہو جائے گا۔ لیکن جماعت میں شریک نہ ہونے کا گناہ اس پر ہو گا۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے ”جو شخص اذان سنتا ہے۔ اس کا جواب نہیں دیتا تو اس کی نماز نہیں ہوتی۔ البتہ عذر کا حکم مختلف ہے“ تو اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس شخص کی نماز گناہ کے بغیر نہیں ہوتی جس کا اس نے جماعت میں شریک نہ ہو کر ارتکاب کیا ہے۔ جبکہ اس سے مراد ”نہی“ کا ارتکاب ہو۔ اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ ایسے شخص کی نماز سرے سے ہوتی ہی نہیں ہے۔ اگرچہ وہ معذور نہ بھی ہو۔ اس وقت جب وہاللہ تعالیٰ کی طرف دعوت دینے والے شخص کی دعوت کا جواب نہیں دیتا۔ تو اس کی مثال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان کی طرح ہو گی ”جو شخص لغو حرکت کرتا ہے اس کا جمعہ نہیں ہوتا“ تو اس کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ ہے کہ اس کا جمعہ اس گناہ کے بغیر نہیں ہوتا۔ جس لغو حرکت کا ارتکاب اس نے کیا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2095]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2092»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق على «صحيح ابن خزيمة»» (3/ 86 - 87/ 1672)، «تخريج إصلاح المساجد» (71).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين، أبو بردة: هو ابن أبي موسى الأشعري، قيل: اسمه عامر، وقيل: الحارث
الرواة الحديث:
أبو بردة بن أبي موسى الأشعري ← المغيرة بن شعبة الثقفي