صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
736. باب فرض متابعة الإمام - ذكر ما يستحب للمرء إذا لم ينتظره المؤذن والقوم عند إتيانه الصلاة أن لا يجد في نفسه عليهم وإن كان أفضلهم
امام کی پیروی کی فرضیت کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اگر مؤذن اور لوگ نماز کے لیے آنے والے کا انتظار نہ کریں تو اسے ان پر کوئی گلہ نہیں کرنا چاہیے، چاہے وہ ان سے افضل ہو
حدیث نمبر: 2224
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ زِيَادٍ ، أَنَّ عُرْوَةَ بْنَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَاهُ يَقُولُ: " عَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَأَنَا مَعَهُ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ قَبْلَ الْفَجْرِ، فَعَدَلْتُ مَعَهُ، فَأَنَاخَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَبَرَّزَ ثُمَّ جَاءَنِي، فَسَكَبْتُ عَلَى يَدَيْهِ مِنَ الإِدَاوَةِ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ حَسَرَ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، فَضَاقَ كُمُّ جُبَّتِهِ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَهُمَا إِلَى الْمِرْفَقِ وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ تَوَضَّأَ عَلَى خُفَّيْهِ، ثُمَّ رَكِبَ، فَأَقْبَلْنَا نَسِيرُ حَتَّى نَجْدَ النَّاسَ فِي الصَّلاةِ، قَدَّمُوا عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ، فَصَلَّى بِهِمْ حِينَ كَانَ وَقْتُ الصَّلاةِ، وَوَجَدْنَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ قَدْ رَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ الْمُسْلِمِينَ، وَرَاءَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ، فَصَلَّى الرَّكْعَةَ الثَّانِيَةَ مِنْ صَلاةِ الْفَجْرِ، ثُمَّ سَلَّمَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُتِمُّ صَلاتَهُ، فَفَزِعَ الْمُسْلِمُونَ وَأَكْثَرُوا التَّسْبِيحَ لأَنَّهُمْ سَبَقُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمَّا سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ لَهُمْ: أَحْسَنْتُمْ، أَوْ قَدْ أَصَبْتُمْ" .
عروہ بن مغیرہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے والد (سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ) کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک کے موقع پر فجر سے پہلے راستے سے ہٹ گئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ میں بھی ہٹ گیا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی سواری کو بٹھایا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم قضائے حاجت کے لیے تشریف لے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں ہاتھوں پر برتن سے پانی انڈیلا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چہرے کو دھویا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی کلائی کو باہر نکالنے کی کوشش کی لیکن جبے کی آستین تنگ تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں ہاتھ اندر داخل کیے اور جبے کے نیچے سے باہر نکالے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں کہنیوں تک دھویا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کا مسح کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے موزوں پر وضو کیا (یعنی مسح کیا)، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہوئے، کچھ ہی دور چلنے کے بعد ہم ان لوگوں تک پہنچ گئے جو نماز ادا کر رہے تھے۔ انہوں نے سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کو آگے کیا تھا اور وہ انہیں نماز پڑھا رہے تھے، اس وقت جب نماز کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو ایسی حالت میں پایا کہ وہ ان لوگوں کو فجر کی نماز کی ایک رکعت پڑھا چکے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلمانوں کے ساتھ سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑے ہو گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی نماز کی دوسری رکعت ادا کی، جب سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے سلام پھیرا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نماز مکمل کرنے کے لیے کھڑے ہو گئے۔ مسلمان اس پر گھبرا گئے، انہوں نے بکثرت «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”اللہ پاک ہے“ کہنا شروع کر دیا کیونکہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے آگے نکلنے کی کوشش کی تھی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا: ”تم لوگوں نے اچھا کیا ہے۔“ (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ”تم لوگوں نے ٹھیک کیا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2224]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 182، 203، 206، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 274، وابن الجارود فى "المنتقى"، 30، 91، 93، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 50، 190، ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1326، 1342، 1346، 1347، 2224، 2225، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 489، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1، 149، 150، 151، والترمذي فى (جامعه) برقم: 20، 98، 100، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 331، 389، 545، 1236، والدارقطني فى (سننه) برقم: 737، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18421» «رقم طبعة با وزير 2221»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما بعده.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2224 in Urdu
عروة بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي