🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
775. باب ما يكره للمصلي وما لا يكره - ذكر البيان بأن المصلي إذا بدرته بادرة ولم يدفن بزقته تحت رجله اليسرى له أن يدلك بها ثوبه بعضه ببعض
نماز کے دوران ناپسندیدہ اور ناپسندیدہ نہ ہونے والے اعمال کا بیان - اس بات کا بیان کہ اگر نمازی کو اچانک تھوک آ جائے اور وہ اسے اپنے بائیں پاؤں کے نیچے نہ دفن کر سکے تو اسے اپنے کپڑے کے ایک حصے کو دوسرے سے رگڑ کر صاف کرنے کی اجازت ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2270
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَجْلانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عِيَاضُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تُعْجِبُهُ الْعَرَاجِينُ يُمْسِكُهَا بِيَدِهِ، فَدَخَلَ يَوْمًا الْمَسْجِدَ وَفِي يَدِهِ مِنْهَا وَاحِدَةٌ، فَرَأَى نُخَامَةً فِي قِبْلَةِ الْمَسْجِدِ، فَحَتَّهَا بِهِ حَتَّى أَنْقَاهَا، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ مُغْضَبًا، فَقَالَ:" أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَسْتَقْبِلَهُ الرَّجُلُ فَيَبْصُقَ فِي وَجْهِهِ، إِنَّ أَحَدَكُمْ إِذَا قَامَ إِلَى الصَّلاةِ فَإِنَّمَا يَسْتَقْبِلُ بِهِ رَبَّهُ، وَالْمَلَكُ عَنْ يَمِينِهِ، فَلا يَبْصُقْ بَيْنَ يَدَيْهِ، وَلا عَنْ يَمِينِهِ، وَلَكِنْ عَنْ يَسَارِهِ تَحْتَ قَدَمِهِ الْيُسْرَى، فَإِنْ عَجِلَتْ بِهِ بَادِرَةٌ، فَلْيَقُلْ هَكَذَا"، وَتَفَلَ فِي ثَوْبِهِ، وَرَدَّ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ .
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہاتھ میں چھڑی رکھنا پسند تھا، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد میں داخل ہوئے اور ایک چھڑی آپ کے ہاتھ میں تھی، آپ نے مسجد کے قبلہ کی سمت (والی دیوار) پر بلغم لگی ہوئی دیکھی تو آپ نے اسے کھرچ کر اچھی طرح صاف کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم غضب کی حالت میں لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا: تم میں سے کوئی ایک شخص اس بات کو پسند کرے گا کہ کوئی شخص اس کے سامنے آئے اور اس کے چہرے کی طرف منہ کر کے تھوک دے؟ جب آدمی نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوتا ہے، تو اس کا پروردگار اس کے مدمقابل ہوتا ہے اور فرشتہ اس کے دائیں طرف ہوتا ہے، اس لیے اسے اپنے سامنے کی طرف یا دائیں طرف نہیں تھوکنا چاہیے، بلکہ اپنے بائیں طرف اپنے بائیں پاؤں کے نیچے تھوکنا چاہیے اور اگر تھوک تیزی سے آ جائے، تو اسے اس طرح کرنا چاہیے یعنی اپنے کپڑے میں تھوک کر اسے مل دے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2270]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 710، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1123، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2190، 2193، 2470، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 864، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1266، والترمذي فى (جامعه) برقم: 421، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1151، 1151 م، وأحمد فى (مسنده) برقم: 8495» «رقم طبعة با وزير 2267»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح أبي داود» (499).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده حسن، ابن عجلان: هو محمد، صدوق أخرجه له مسلم متابعة والبخاري تعليقاً، وباقي رجال السند ثقات على شرطهما، عياض بن عبد الله: هو ابن سعد بن أبي سرح القرشي المكي.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عياض بن عبد الله العامري
Newعياض بن عبد الله العامري ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥محمد بن عجلان القرشي، أبو عبد الله
Newمحمد بن عجلان القرشي ← عياض بن عبد الله العامري
صدوق حسن الحديث
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← محمد بن عجلان القرشي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥زهير بن حرب الحرشي، أبو خيثمة
Newزهير بن حرب الحرشي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة ثبت
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← زهير بن حرب الحرشي
ثقة مأمون
Sahih Ibn Hibban Hadith 2270 in Urdu