صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1133. فصل في قيام الليل - ذكر ما يستحب للمرء أن يصلي بالنهار ما فاته من تهجده بالليل
قیام الليل کا بیان - اس بات کا ذکر کہ آدمی کے لیے مستحب ہے کہ وہ دن میں اس تہجد کو پڑھے جو رات میں اس سے چھوٹ گیا
حدیث نمبر: 2642
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ سَعِيدٍ السَّعِيدِيُّ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى ، عَنْ شُعْبَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى، عَنْ سَعْدِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا عَمِلَ عَمَلا أَثْبَتَهُ، وَكَانَ إِذَا نَامَ مِنَ اللَّيْلِ، أَوْ مَرِضَ صَلَّى مِنَ النَّهَارِ ثِنْتَيْ عَشْرَةَ رَكْعَةً" . قَالَتْ: قَالَتْ: " وَمَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ لَيْلَةً حَتَّى الصَّبَاحِ، وَلا صَامَ شَهْرًا مُتَتَابِعًا إِلا رَمَضَانَ" ، قَالَ: أَبُو حَاتِمٍ: فِي هَذَا الْخَبَرِ دَلِيلٌ عَلَى أَنَّ الْوِتْرَ لَيْسَ بِفَرْضٍ، إِذْ لَوْ كَانَ فَرْضًا لَصَلَّى مِنَ النَّهَارِ مَا فَاتَهُ مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب کوئی عمل کرتے تھے تو باقاعدگی سے کیا کرتے تھے، اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رات کے وقت سو جاتے یا بیماری کی وجہ سے (رات کے نوافل ادا نہیں کر پاتے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت بارہ رکعات ادا کیا کرتے تھے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو کبھی بھی ساری رات صبح صادق تک نوافل ادا کرتے ہوئے نہیں دیکھا اور نہ ہی رمضان کے مہینے کے علاوہ کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مسلسل (پورا مہینہ) روزے رکھتے ہوئے دیکھا ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اس روایت میں اس بات کی دلیل موجود ہے کہ وتر فرض نہیں ہیں، کیونکہ اگر یہ فرض ہوتے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم دن کے وقت اپنی رات کے وقت رہ جانے والی 13 رکعات ادا کرتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2642]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 746، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1078، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 2420، 2441، 2442، 2551، 2552، 2635، 2640، 2642، 2644، 2645، 2646، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1143، 3863، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1342، والترمذي فى (جامعه) برقم: 445، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1516، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1191،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1665، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24907» «رقم طبعة با وزير 2633»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى مختصرا (2411). تنبيه!! رقم (2411) = (2420) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 2642 in Urdu
سعد بن هشام الأنصاري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق