🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1159. باب سجود السهو - ذكر البيان بأن الباني على الأقل من صلاته إذا شك فيها أن يحسن ركوع تلك الركعة وسجودها
سجدہ سهو کرنے کا بیان - اس بات کا بیان کہ جو شخص اپنی نماز میں کم پر عمل کرے اور شک کرے، اسے اس رکعت کا رکوع اور سجدہ اچھی طرح کرنا چاہیے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2669
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْعِجْلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلالٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا شَكَّ أَحَدُكُمْ، فَلَمْ يَدْرِ كَمْ صَلَّى ثَلاثًا أَوْ أَرْبَعًا، فَلْيَقُمْ فَلْيُصَلِّ رَكْعَةً يُتِمُّ رُكُوعَهَا وَسُجُودَهَا، ثُمَّ يَسْجُدْ سَجْدَتَيْنِ وَهُوَ جَالِسٌ، فَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى خَمْسًا، شَفَعَ بِالسَّجْدَتَيْنِ، وَإِنْ كَانَ قَدْ صَلَّى أَرْبَعًا كَانَتِ السَّجْدَتَانِ تَرْغِيمًا لِلشَّيْطَانِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: خَبَرُ ابْنِ مَسْعُودٍ، وَأَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، مِمَّا قَدْ يُوهِمُ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ التَّحَرِّيَ فِي الصَّلاةِ وَالْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ وَاحِدٌ، وَحُكْمَاهُمَا مُخْتَلِفَانِ، لأَنَّ فِي خَبَرِ ابْنِ مَسْعُودٍ فِي ذِكْرِ التَّحَرِّي أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ، وَفِي خَبَرِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ فِي الْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَمَرَ بِسَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ، وَالْفَصْلُ بَيْنَ التَّحَرِّي وَالْبِنَاءِ عَلَى الْيَقِينِ: أَنَّ الْبِنَاءَ عَلَى الْيَقِينِ هُوَ أَنْ يَشُكَّ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ، فَلا يَدْرِي ثَلاثًا صَلَّى أَمْ أَرْبَعًا، فَإِذَا كَانَ كَذَلِكَ فَلْيَبْنِ عَلَى مَا اسْتَيْقَنَ وَهُوَ الثَّلاثُ، وَيُتِمَّ صَلاتَهُ، وَيَسْجُدْ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ قَبْلَ السَّلامِ، وَأَمَّا التَّحَرِّي: فَهُوَ أَنْ يَدْخُلَ الْمَرْءُ فِي صَلاتِهِ، ثُمَّ اشْتَغَلَ بِقَلْبِهِ بِبَعْضِ أَسْبَابِ الدِّينِ أَوِ الدُّنْيَا حَتَّى مَا يَدْرِي أَيَّ شَيْءٍ صَلَّى أَصْلا، فَإِذَا كَانَ ذَلِكَ تَحَرَّى عَلَى الأَغْلَبِ عِنْدَهُ، وَيَبْنِي عَلَى مَا صَحَّ لَهُ مِنَ التَّحَرِّي مِنْ صَلاتِهِ، وَيُتِمُّهَا، وَيَسْجُدُ سَجْدَتَيِ السَّهْوِ بَعْدَ السَّلامِ حَتَّى يَكُونَ مُسْتَعْمِلا لِلْخَبَرَيْنِ مَعًا.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: جب کسی شخص کو شک ہو جائے اور اسے یہ پتہ نہ چلے، اس نے تین رکعات ادا کی ہیں، یا چار ادا کی ہیں، تو اسے اٹھ کر ایک رکعت ادا کرنی چاہئے اس میں رکوع اور سجدے کو مکمل ادا کرے پھر جب وہ بیٹھا ہوا ہو، تو دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے اگر اس نے پانچ رکعات ادا کی تھیں، تو دو سجدے انہیں جفت بنا دیں گے اور اگر وہ چار رکعات ادا کر چکا تھا تو یہ دو سجدے شیطان کو رسوا کر دیں گے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت وہ روایت ہے جس نے عالم شخص کو اس غلط فہمی کا شکار کیا کہ نماز کے دوران تحری کرنا اور یقین پر بناء قائم کرنا ایک ہی چیز ہے۔ حالانکہ ان دونوں کا حکم مختلف ہے۔ کہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے منقول روایت میں تحری کا حکم ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے جبکہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے منقول روایت میں یقین پر بناء قائم کرنے کا حکم ہے جس میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیرنے سے پہلے سجدہ سہو کرنے کا حکم دیا ہے۔ تو تحری کرنے اور یقین پر بناء قائم کرنے کے درمیان فرق ہے۔ کیونکہ یقین پر بناء قائم کرنے سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کو اپنی نماز کے بارے میں شک ہو جائے اور اس کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ اس نے تین رکعات ادا کی ہیں کہ چار رکعات؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو۔ پھر وہ اس چیز پر بناء قائم کرے گا جس کا اس کو یقین ہو۔ اور وہ تین رکعات ہوں۔ پھر وہ اپنی نماز کو مکمل کرے پھر سلام پھیرنے سے پہلے دو مرتبہ سجدہ سہو کر لے گا، جہاں تک تحری کا تعلق ہے۔ تو اس کی صورت یہ ہے کہ آدمی نماز شروع کرتا ہے پھر اس کا ذہن کسی دنیاوی یا دینی معاملے میں مشغول ہو جاتا ہے یہاں تک کہ اسے یہ پتہ نہیں چل پاتا کہ اس نے کتنی نماز ادا کی ہے؟ جب اس طرح کی صورت حال درپیش ہو، تو وہ غالب گمان کے مطابق تحری کر لے گا اور تحری کے نتیجے میں جو چیز اس کے لیے ثابت ہو گی اس پر بناء قائم کرے اور پھر اپنی نماز کو مکمل کر کے سلام پھیرنے کے بعد دو مرتبہ سجدہ سہو کرے گا۔ اس صورت میں ان دونوں روایات پر ایک ساتھ عمل ہو جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2669]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2659»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥أبو سعيد الخدري، أبو سعيدصحابي
👤←👥عطاء بن يسار الهلالي، أبو محمد
Newعطاء بن يسار الهلالي ← أبو سعيد الخدري
ثقة
👤←👥زيد بن أسلم القرشي، أبو خالد، أبو أسامة، أبو عبد الله
Newزيد بن أسلم القرشي ← عطاء بن يسار الهلالي
ثقة
👤←👥سليمان بن بلال القرشي، أبو محمد، أبو أيوب
Newسليمان بن بلال القرشي ← زيد بن أسلم القرشي
ثقة
👤←👥خالد بن مخلد القطواني، أبو الهيثم
Newخالد بن مخلد القطواني ← سليمان بن بلال القرشي
مقبول
👤←👥محمد بن عثمان العجلي، أبو عبد الله، أبو جعفر
Newمحمد بن عثمان العجلي ← خالد بن مخلد القطواني
ثقة
👤←👥عمر بن محمد الهمذاني، أبو حفص
Newعمر بن محمد الهمذاني ← محمد بن عثمان العجلي
ثقة