صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
130. باب ما جاء في الصفات - ذكر الخبر الدال على أن كل صفة إذا وجدت في المخلوقين كان لهم بها النقص غير جائز إضافة مثلها إلى الباري جل وعلا-
اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ہر وہ صفت جو مخلوق میں پائی جاتی ہے، اگر اس کے ساتھ نقص ہو تو ایسی صفت کو اللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کرنا جائز نہیں۔
حدیث نمبر: 267
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيَمَ ، مَوْلَى ثَقِيفٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شَبَابَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَرْقَاءُ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" قَالَ الِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى: كَذَّبَنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ لَهُ أَنْ يُكَذِّبَنِي، وَيَشْتُمُنِي ابْنُ آدَمَ وَلَمْ يَكُنْ يَنْبَغِي لَهُ أَنْ يَشْتُمَنِي، فَأَمَّا تَكْذِيبُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: لَنْ يُعِيدَنِي كَمَا بَدَأَنِي، أَوَ لَيْسَ أَوَّلُ خَلْقٍ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ، وَأَمَّا شَتْمُهُ إِيَّايَ فَقَوْلُهُ: اتَّخَذَ الِلَّهِ وَلَدًا، وَأَنَا الِلَّهِ الأَحَدُ الصَّمَدُ، لَمْ أَلِدْ وَلَمْ أُولَدْ، وَلَمْ يَكُنْ لِي كُفُوًا أَحَدٌ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: فِي قَوْلِهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَوَ لَيْسَ أَوَّلُ خَلْقٍ بِأَهْوَنَ عَلَيَّ مِنْ إِعَادَتِهِ"، فِيهِ الْبَيَانُ الْوَاضِحُ أَنَّ الصِّفَاتِ الَّتِي تُوقِعُ النَّقْصَ عَلَى مَنْ وُجِدَتْ فِيهِ، غَيْرُ جَائِزٍ إِضَافَةُ مِثْلِهَا إِلَى اللَّهِ جَلَّ وَعَلا، إِذِ الْقِيَاسُ كَانَ يُوجِبُ أَنْ يُطْلِقَ بَدَلَ هَذِهِ اللَّفْظَةِ" بِأَهْوَنَ عَلَيَّ"، بِأَصْعَبَ عَلَيَّ، فَتَنَكَّبَ لَفْظَةَ التَّصْعِيبِ إِذْ هِيَ مِنْ أَلْفَاظِ النَّقْصِ، وَأُبْدِلَتْ بِلَفْظِ التَّهْوِينِ الَّذِي لا يَشُوبُهُ ذَلِكَ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ابن آدم مجھے جھوٹا قرار دیتا ہے۔ حالانکہ اسے اس بات کا حق نہیں ہے کہ مجھے جھوٹا قرار دے۔ ابن آدم مجھے برا کہتا ہے، حالانکہ اسے اس کا حق نہیں ہے کہ وہ مجھے برا کہے، جہاں تک اس کے میری تکذیب کرنے کا تعلق ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے،اللہ تعالیٰ مجھے دوبارہ پیدا نہیں کرے گا، جس طرح اس نے مجھے پہلے پیدا کیا ہے۔ تو کیا اسے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں پہلی مرتبہ پیدا کرنا میرے لئے زیادہ آسان نہیں ہے؟ جہاں تک اس کے مجھے برا کہنے کا تعلق ہے، تو اس سے مراد اس کا یہ کہنا ہے،اللہ تعالیٰ کی اولاد ہے، حالانکہ میںاللہ تعالیٰ ہوں، میں یکتا ہوں۔ میں بے نیاز ہوں۔ میں نے کسی کو جنم نہیں دیا ہے، اور مجھے جنم نہیں دیا گیا اور کوئی میرا ہمسر نہیں ہو سکتا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان: ”کیا پہلی مرتبہ پیدا کرنااللہ تعالیٰ کے لئے دوبارہ پیدا کرنے کے مقابلے میں زیادہ آسان نہیں تھا۔“ اس میں اس بات کا واضح بیان موجود ہے کہ وہ صفات، جو اس شخص میں نقص واقع کر دیں جس میں وہ صفت پائی جاتی ہے، تو یہ بات جائز نہیں ہے کہ اس کی مثل کواللہ تعالیٰ کی طرف منسوب کیا جائے، کیونکہ قیاس اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ یہ بات لازم ہو کہ ”میرے لیے زیادہ آسان“ کے بجائے ”میرے لیے زیادہ مشکل“ کے الفاظ ہونے چاہیے تھے۔ لیکن مشکل ہونے کے لفظ کو اس لیے ترک کیا گیا، کیونکہ یہ نقص کے الفاظ میں سے ہے، اور اس کی جگہ آسان ہونے کے لفظ کو بدلے کے طور پر لایا گیا جس میں نقص کا پہلو نہیں پایا جاتا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 267]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن صحيح - «صحيح النسائي» (1965): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. أبو الزناد: هو عبد الله بن ذكوان، والأعرج: عبد الرحمن بن هرمز.
الرواة الحديث:
عبد الرحمن بن هرمز الأعرج ← أبو هريرة الدوسي