صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
131. باب ما جاء في الصفات - ذكر خبر شنع به أهل البدع على أئمتنا حيث حرموا التوفيق لإدراك معناه-
اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان - اس خبر کا ذکر جسے اہل بدعت نے ہمارے ائمہ پر طعنہ زنی کے طور پر پیش کیا، کیونکہ انہوں نے اس کے معنی کو سمجھنے کے لیے توفیق کو حرام قرار دیا۔
حدیث نمبر: 268
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْقَوَارِيرِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرَمِيُّ بْنُ عُمَارَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " يُلْقَى فِي النَّارِ فَتَقُولُ: هَلْ مِنْ مَزِيدٍ؟ حَتَّى يَضَعَ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا قَدْمَهُ فِيهَا، فَتَقُولُ: قَطْ قَط ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: هَذَا الْخَبَرُ مِنَ الأَخْبَارِ الَّتِي أُطْلِقَتْ بِتَمْثِيلِ الْمُجَاوَرَةِ، وَذَلِكَ أَنَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يُلْقَى فِي النَّارِ مِنَ الأُمَمِ وَالأَمْكِنَةِ الَّتِي عُصِيَ الِلَّهِ عَلَيْهَا، فَلا تَزَالُ تَسْتَزِيدُ حَتَّى يَضَعَ الرَّبُّ جَلَّ وَعَلا مَوْضِعًا مِنَ الْكُفَّارِ وَالأَمْكِنَةِ فِي النَّارِ، فَتَمْتَلِئُ فَتَقُولُ: قَطْ قَطْ، تُرِيدُ: حَسْبِي حَسْبِي، لأَنَّ الْعَرَبَ تُطْلِقُ فِي لُغَتِهَا اسْمَ الْقَدْمِ عَلَى الْمَوْضِعِ، قَالَ الِلَّهِ جَلَّ وَعَلا: لَهُمْ قَدْمُ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ، يُرِيدُ: مَوْضِعَ صِدْقٍ، لا أَنَّ اللَّهَ جَلَّ وَعَلا يَضَعُ قَدْمَهُ فِي النَّارِ، جَلَّ رَبُّنَا وَتَعَالَى عَنْ مِثْلِ هَذَا وَأَشْبَاهِهِ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”جہنم میں لوگوں کو ڈالا جائے گا، تو جہنم کہے گی: کیا اور لوگ ہیں؟ یہاں تک کہ پروردگار اپنا قدم اس پر رکھ دے گا، تو وہ کہے گی: بس، بس۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ ان روایات میں سے ایک ہے، جس میں مجاورت کی مثال کا اطلاق کیا گیا ہے، اور اس کی صورت یہ ہے: قیامت کے دن کچھ لوگوں اور جگہوں کو جہنم میں ڈال دیا جائے گا، وہ جگہیں جہاں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی جاتی تھی، جہنم مزید کے حصول کا تقاضا کرتی رہے گی، یہاں تک کہ پروردگار کفار اور جگہوں میں سے ایک جگہ جہنم میں ڈال دے گا، تو وہ بھر جائے گی۔ تو جہنم کہے گی: بہت ہے، بہت ہے، اس سے مراد یہ ہے: یہ میرے لیے کافی ہے، یہ میرے لیے کافی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: عرب بعض اوقات لفظ «قَدَم» کو اپنی لغت میں ”جگہ“ کے لیے استعمال کرتے ہیں، جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿أَنَّ لَهُمْ قَدَمَ صِدْقٍ عِنْدَ رَبِّهِمْ﴾ [سورة يونس: 2] ”ان کے لیے ان کے پروردگار کی بارگاہ میں سچائی کا مقام ہوگا“، اس سے مراد سچائی کا مقام ہے، اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا پاؤں جہنم میں رکھ دے گا۔ ہمارا پروردگار اس سے اور اس جیسی دیگر چیزوں سے بلند و برتر ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 268]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 4848، 6661، 7384، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2848، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 268، 7448، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3272، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12575»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «ظلال الجنة» (525): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين. القواريري: هو عبيد الله بن عمر بن ميسرة.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 268 in Urdu
قتادة بن دعامة السدوسي ← أنس بن مالك الأنصاري