صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
132. باب ما جاء في الصفات - ذكر الخبر الدال على أن هذه الألفاظ من هذا النوع أطلقت بألفاظ التمثيل والتشبيه على حسب ما يتعارفه الناس-
اللہ تعالیٰ کی صفات کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ اس قسم کے الفاظ کو تمثیل اور تشبیہ کے طور پر استعمال کیا گیا، جیسا کہ لوگوں کے درمیان عام طور پر رائج ہے۔
حدیث نمبر: 269
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ ، بِنَسَا، قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الصَّبَّاحِ ، قال: حَدَّثَنَا عَفَّانُ ، قال: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قال: أخبرنا ثَابِتٌ عَنْ أَبِي رَافِعٍ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يقول اللَّهُ جَلَّ وعلا للعبد يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَا ابْنَ آدَمَ مَرِضْتُ فَلَمْ تَعُدْنِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ وَكَيْفَ أَعُودُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ قَالَ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ عَبْدِي فُلَانًا مَرِضَ فَلَمْ تَعُدْهُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ عُدْتَهُ لَوَجَدْتَنِي وَيَقُولُ يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَسْقَيْتُكَ فَلَمْ تَسْقِنِي فَيَقُولُ يَا رَبِّ كَيْفَ أَسْقِيكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فَيَقُولُ أَمَا عَلِمْتَ أَنَّكَ لَوْ سَقَيْتَهُ لَوَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي يَا ابْنَ آدَمَ اسْتَطْعَمْتُكَ فَلَمْ تُطْعِمْنِي فيقول يَا رَبِّ وَكَيْفَ أُطْعِمُكَ وَأَنْتَ رَبُّ الْعَالَمِينَ فيقول ألم تعلم أن عبدي فلانا اسْتَطْعَمَكَ فَلَمْ تُطْعِمْهُ أَمَا إِنَّكَ لَوْ أَطْعَمْتَهُ وَجَدْتَ ذَلِكَ عِنْدِي .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اپنے بندے سے فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں بیمار ہوا، لیکن تم نے میری عیادت نہیں کی، بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تیری عیادت کس طرح کر سکتا ہوں؟ جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے کہ میرا فلاں بندہ بیمار ہوا ہے، اور تم نے اس کی عیادت نہیں کی؟ کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اگر تم اس کی عیادت کر لیتے، تو اسے میرے پاس پا لیتے؟ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے پینے کے لیے پانی مانگا تھا، تو تم نے مجھے پانی نہیں دیا، بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے پانی پلا سکتا ہوں؟ جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے تھے کہ اگر تم اس شخص کو پانی پلا دیتے (تو اس کا اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے؟ اے آدم کے بیٹے! میں نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تو تم نے مجھے کھانے کے لیے نہیں دیا، بندہ عرض کرے گا: اے میرے پروردگار! میں تجھے کیسے کھلا سکتا ہوں، جبکہ تو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تو اللہ تعالیٰ فرمائے گا: کیا تم یہ بات نہیں جانتے کہ میرے فلاں بندے نے تم سے کھانے کے لیے مانگا تھا، تو تم نے اسے کھانے کے لیے نہیں دیا تھا، اگر تم اسے کھانے کے لیے دے دیتے، تو تم اس کا (اجر و ثواب) میرے پاس پا لیتے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 269]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2569، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 269، 944، 7366، وأحمد فى (مسنده) برقم: 9365، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 5979، 8722»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 48): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الصحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 269 in Urdu
نفيع بن رافع المدني ← أبو هريرة الدوسي