یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
13. باب الصدق والأمر بالمعروف والنهي عن المنكر - ذكر نفي الورود على حوض المصطفى صلى الله عليه وسلم عمن أعان الأمراء على ظلمهم أو صدقهم في كذبهم-
سچائی، نیکی کا حکم دینے اور برائی سے روکنے کا بیان - اس کا ذکر کہ جو شخص امراء کے ظلم میں ان کی مدد کرتا ہے یا ان کے جھوٹ کی تصدیق کرتا ہے، وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوض پر نہیں پہنچے گا۔
حدیث نمبر: 283
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ الْحَنْظَلِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْمُلائِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَبِي حَصِينٍ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عَاصِمٍ الْعَدَوِيِّ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ جُلُوسٌ عَلَى وِسَادَةٍ مِنْ أَدَمٍ، فَقَالَ: " سَيَكُونُ بَعْدَي أُمَرَاءُ، فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ، وَصَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلَيْسَ يَرِدُ عَلَيَّ الْحَوْضَ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ، فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ، وَهُوَ وَارِدٌ عَلَيَّ الْحَوْضَ" الْمُلائِيُّ هُوَ أَبُو نُعَيْمٍ الْفَضْلُ بْنُ دُكَيْنٍ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، ہم اس وقت چمڑے کے بنے ہوئے تکیے پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عنقریب میرے بعد کچھ حکمران آئیں گے، جو شخص ان کے ہاں جائے گا اور ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم میں ان کی مدد کرے گا، اس کا مجھ سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں ہو گا، اور وہ میرے حوض پر میرے پاس نہیں آ سکے گا، اور جو شخص ان کے جھوٹ میں ان کی تصدیق نہیں کرے گا۔ ان کے ظلم میں ان کی مدد نہیں کرے گا۔ اس کا مجھ سے تعلق ہو گا اور میرا اس سے تعلق ہو گا اور وہ میرے حوض پر میرے پاس آئے گا۔“
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ملائی نامی راوی ابونعیم فضل بن دکین ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 283]
امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ملائی نامی راوی ابونعیم فضل بن دکین ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 283]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 279، 282، 283، 285، 5567، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 263، 264، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 4218، والترمذي فى (جامعه) برقم: 614، 615، 2259، 2259 م 1، 2259 م 2، وأحمد فى (مسنده) برقم: 18413»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 283 in Urdu
عاصم العدوي ← كعب بن عجرة الأنصاري