صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
1326. باب صلاة الكسوف - ذكر النوع الثاني من صلاة الكسوف
چاند گرہن اور سورج گرہن کے موقع پر ادا کی جانے والی نماز کا بیان - صلاة الكسوف کے دوسرے نوع کی کیفیت کا ذکر
حدیث نمبر: 2843
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال: أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي سُلَيْمَانَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: انْكَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَطَالَ الْقِيَامَ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ رَكَعَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، فَقَامَ، فَرَكَعَ ثَلاثَ رَكَعَاتٍ قَامَ فِيهِنَّ دُونَ قِيَامِهِ الأَوْلِ، ثُمَّ سَجَدَ، ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ، فَقَالَ:" إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ لا يَنْكَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلا لِحَيَاتِهِ، وَهُمَا آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ كُسُوفَهُمَا فَصَلُّوا حَتَّى يَنْجَلِيَ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے طویل قیام کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا جو پہلے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر کو اٹھایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام کیا جو پہلے والے قیام سے کم تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع کیا، تو یہ تین رکوع ہو گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر کو اٹھایا پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ رکوع کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے درمیان جو قیام کیا تھا وہ پہلے والے قیام سے کم ہوتا تھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز مکمل کی تو اس دوران سورج روشن ہو چکا تھا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک سورج اور چاند کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے، یہ دونوںاللہ تعالیٰ کی دو نشانیاں ہیں جب تم انہیں گرہن کی حالت میں دیکھو تو نماز ادا کرتے رہو یہاں تک کہ گرہن ختم ہو جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2843]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2832»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (656)، «صحيح أبي داود» (1069 - 1070): م، لكن قوله: ثلاث ركعات .. شاذ، والمحفوظ: ركعتان؛ كما في بعض طرقه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
عطاء بن أبي رباح القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري