الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
44. باب ما جاء في الصبر وثواب الأمراض والأعراض - ذكر تطهير الله المسلم من ذنوبه بالحمى إذا اعترته في دار الدنيا
صبر کا بیان اور بیماریوں و مصیبتوں پر اجر کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ دنیا میں بخار کے ذریعے مسلمان کو اس کے گناہوں سے پاک کرتا ہے
حدیث نمبر: 2935
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا جَرِيرٌ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ ، عَنْ جَابِرٍ ، قَالَ: أَتَتِ الْحُمَّى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَأْذَنَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ:" مَنْ أَنْتِ؟" فَقَالَتْ: أَنَا أُمُّ مِلْدَمٍ، قَالَ:" انْهَدِي إِلَى قُبَاءَ، فَأْتِهِمْ" قَالَ: فَأَتَتْهُمْ، فَحُمُّوا، أَوْ لَقُوا مِنْهَا شِدَّةً، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَرَى مَا لَقِينَا مِنَ الْحُمَّى، قَالَ:" إِنْ شِئْتُمْ دَعَوْتُ اللَّهَ، فَكَشَفَهَا عَنْكُمْ، وَإِنْ شِئْتُمْ كَانَتْ طَهُورًا"، قَالُوا: بَلْ تَكُونُ طَهُورًا .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: بخار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس نے آپ کی خدمت میں حاضر ہونے کی اجازت طلب کی۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کون ہو؟ اس نے جواب دیا: میں اُم ملدم ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم قباء کی طرف جاؤ اور وہاں چلے جاؤ۔ راوی کہتے ہیں: وہ وہاں چلا گیا ان لوگوں کو بخار رہنے لگ پڑا (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) ان لوگوں کو اس کی وجہ سے شدت کا سامنا کرنا پڑا انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ملاحظہ کی ہے کہ ہمیں کتنا بخار رہنے لگا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم لوگ چاہو، تو میںاللہ تعالیٰ سے دعا کر دیتا ہوں وہ اسے تم سے دور کر دے گا اور اگر تم چاہو، تو یہ تمہارے لیے طہارت کے حصول کا ذریعہ بن جائے گا، تو ان لوگوں نے عرض کی: اسے طہارت کے حصول کا ذریعہ رہنے دیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2935]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2924»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «التعليق الرغيب» (4/ 154).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
طلحة بن نافع القرشي ← جابر بن عبد الله الأنصاري