صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
78. باب المريض وما يتعلق به - ذكر البيان بأن العائذ إذا قعد عند العليل وأراد أن يدعو له يجب أن يمسحه بيمينه
مریض اور اس سے متعلق احکام - اس بات کا بیان کہ عیادت کرنے والا جب بیمار کے پاس بیٹھے اور اس کے لیے دعا کرنا چاہے تو اسے اپنے دائیں ہاتھ سے مسح کرنا چاہیے
حدیث نمبر: 2970
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنِ خَلادٍ الْبَاهِلِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مُسْلِمٍ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، كَانَ إِذَا عَادَ الْمَرِيضَ مَسَحَهُ بِيَمِينِهِ، وَقَالَ:" أَذْهِبِ الْبَاسَ رَبَّ النَّاسِ، وَاشْفِ أَنْتَ الشَّافِي، اشْفِ شِفَاءً لا يُغَادِرُ سَقَمًا" ، قَالَ: فَحَدَّثْتُ بِهِ مَنْصُورًا ، فَحَدَّثَنِي عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ مَسْرُوقٍ ، عَنْ عَائِشَةَ بِنَحْوِهِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صلی اللہ علیہ وسلم کسی بیمار کی عیادت کرتے تھے، تو اپنا دست مبارک اس پر پھیرتے اور یہ فرماتے تھے۔ ”تکلیف کو دور کر دے، اے لوگوں کے پروردگار! تو ہی شفا عطا کرنے والا ہے، تو ایسی شفا عطا کر دے، جو بیماری کو نہ رہنے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے یہ روایت منصور کو سنائی، تو انہوں نے ابراہیم، مسروق کے حوالے سے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے اسی کی مانند روایت بیان کی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 2970]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2959»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (2775): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
الرواة الحديث:
مسروق بن الأجدع الهمداني ← عائشة بنت أبي بكر الصديق