صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
236. فصل في أحوال الميت في قبره - ذكر البيان بأن هذا الخطاب أراد به صلى الله عليه وسلم إذا نيح على الكفار دون أن يكون المبكي عليه مسلما
قبر میں میت کے احوال کے بیان میں فصل - اس بات کا بیان کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ خطاب کافروں پر نوحہ کرنے سے متعلق تھا، نہ کہ اس پر جو مسلمان ہو
حدیث نمبر: 3136
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، حَدَّثَنَا نَافِعُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، قَالَ: حَضَرْتُ جَنَازَةَ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ فَجَاءَ ابْنُ عُمَرَ، فَجَلَسَ، وَجَاءَ ابْنُ عَبَّاسٍ فَجَلَسَ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ : أَلا تَنْهَى هَؤُلاءِ عَنِ الْبُكَاءِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" إِنَّ الْمَيِّتَ يُعَذَّبُ ببُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" ، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ مُجِيبًا لَهُ: قَدْ كَانَ عُمَرُ يَقُولُ بَعْضَ ذَلِكَ. خَرَجْنَا مَعَ عُمَرَ حَتَّى إِذَا كُنَّا بِالْبَيْدَاءِ، إِذَا رَاكِبٌ فِي ظِلِّ شَجَرَةٍ، فَقَالَ: يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبَّاسٍ انْظُرْ مَنِ الرَّاكِبُ، فَجِئْتُ فَإِذَا صُهَيْبٌ مَعَهُ أَهْلُهُ، فَقَالَ لِيَ: ادْعُ لِي صُهَيْبًا، فَصَحِبَهُ حَتَّى دَخَلَ الْمَدِينَةَ، فَأُصِيبَ عُمَرُ، فَقَالَ: وَاأَخَاهُ، وَاصَاحِبَاهُ، فَقَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: يَا صُهَيْبُ، لا تَبْكِ، فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " يُعَذَّبُ الْمَيِّتِ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" . فَذَكَرَ ذَلِكَ لِعَائِشَةَ ، فَقَالَتْ: وَاللَّهِ مَا تَحَدِّثُونَ عَنْ كَذَّابِينَ وَلا مُكَذَّبَيْنِ، وَإِنَّ لَكُمْ فِي الْقُرْآنِ مَا يَكْفِيَكُمْ عَنْ ذَلِكَ: وَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى سورة الأنعام آية 164، وَلَكِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِنَّ اللَّهَ يَزِيدُ الْكَافِرَ بِبُكَاءِ أَهْلِهِ عَلَيْهِ" .
ابن ابی ملیکہ بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے ابان کے جنازے میں شریک ہوا وہاں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور بیٹھ گئے پھر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما تشریف لائے اور بیٹھ گئے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا تم انہیں رونے سے روکتے نہیں ہو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے ”بے شک میت کے گھر والوں کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔“ تو سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے انہیں جواب دیتے ہوئے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بھی اس طرح کی بات ارشاد فرمایا کرتے تھے۔ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بتایا) ہم لوگ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ روانہ ہوئے جب ہم بیداء کے مقام پر پہنچے، تو وہاں ایک درخت کے سائے میں ایک سوار موجود تھا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جا کر دیکھو یہ سوار کون ہے؟ میں وہاں آیا، تو وہ سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ تھے ان کے ساتھ ان کی بیوی بھی تھیں انہوں نے مجھ سے فرمایا: میرے پاس صہیب کو بلا کر لاؤ پھر وہ ان کے ساتھ ہو لیے، یہاں تک کہ مدینہ منورہ تشریف لے آئے وہاں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ زخمی ہوئے، تو سیدنا صہیب رضی اللہ عنہ نے کہا: ہائے میرا بھائی ہائے میرا ساتھی، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اے صہیب تم نہ روؤ، کیونکہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: میت کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے میت کو عذاب دیا جاتا ہے۔ پھر انہوں نے اس بات کا تذکرہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کیا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اللہ کی قسم! تم لوگ جھوٹے لوگوں کی طرف سے یا جن کو جھٹلایا گیا ہو ان کی طرف سے بات بیان نہیں کر رہے، لیکن تمہارے لیے وہ دلیل کافی ہے، جو قرآن میں ہے اور اس بارے میں ہے (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”کوئی وزن اٹھانے والا کسی دوسرے کا وزن نہیں اٹھاتا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ”بے شک اللہ تعالیٰ کافر شخص کے اہل خانہ کے اس پر رونے کی وجہ سے کافر کے عذاب میں اضافہ کر دیتا ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الجنائز وما يتعلق بها مقدما أو مؤخرا/حدیث: 3136]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 3126»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن النسائي» (1753): خ (1286 - 1288)، م (3/ 43 - 44).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما
الرواة الحديث:
عمر بن الخطاب العدوي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق