صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
45. باب ما جاء في الطاعات وثوابها - ذكر تفضل الله جل وعلا بإعطاء أجر الصائم الصابر للمفطر إذا شكر ربه جل وعلا
اطاعتوں اور ان کے ثواب کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ جل وعلا مفطر کو بھی صائم صابر کا اجر عطا فرماتا ہے اگر وہ اپنے رب کا شکر ادا کرے۔
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنَا بَكْرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَابِدُ الطَّاحِيُّ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الطَّاعِمُ الشَّاكِرُ بِمَنْزِلَةِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: شُكْرُ الطَّاعِمِ الَّذِي يَقُومُ بِإِزَاءِ أَجْرِ الصَّائِمِ الصَّابِرِ: هُوَ أَنْ يَطْعَمَ الْمُسْلِمُ، ثُمَّ لا يَعْصِي بَارِيَهُ، يُقَوِّيهِ، وَيُتِمُّ شُكْرَهُ بِإتْيَانِ طَاعَاتِهِ بِجَوَارِحِهِ، لأَنَّ الصَّائِمَ قُرِنَ بِهِ الصَّبْرُ لِصَبْرِهِ عَنِ الْمَحْظُورَاتِ، وَكَذَلِكَ قُرِنَ بِالطَّاعِمِ الشُّكْرُ، فَيَجِبُ أَنْ يَكُونَ هَذَا الشُّكْرُ الَّذِي يَقُومُ بِإِزَاءِ ذَلِكَ الصَّبْرِ يُقَارِبُهُ أَوْ يُشَاكِلُهُ، وَهُوَ تَرْكُ الْمَحْظُورَاتِ عَلَى مَا ذَكَرْنَاهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، روایت کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”کھا کر شکر ادا کرنے والا صبر کر کے روزہ رکھنے والے کی مانند ہے۔“
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کھا کر شکر کرنے والے، جس شخص کو صبر کر کے روزہ رکھنے والے کے اجر کے بالمقابل قرار دیا گیا ہے یہ وہ مسلمان شخص ہے، جو کچھ کھاتا ہے، اور پھر وہ اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کرتا ہے وہ اپنی ذات کو قوت پہنچاتا ہے وہ شکر کو مکمل کرتا ہے کہ اپنے اعضاء کے ذریعے نیکیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: روزہ دار اس کے ساتھ صبر کے حوالے سے مل جاتا ہے، کیونکہ وہ ممنوعہ چیزوں سے صبر کرتا ہے۔ اسی طرح اسے صبر شکر کرنے والے کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تو اب یہ بات لازم ہے کہ یہ شکر جس سے اس صبر کے مقابلے میں رکھا گیا ہے۔ یہ وہ ہو، جو اس کے قریب ہو یا اس کے ساتھ مناسبت رکھتا ہو اور یہ ممنوعہ چیزوں کا ترک کرنا ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 315]
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) کھا کر شکر کرنے والے، جس شخص کو صبر کر کے روزہ رکھنے والے کے اجر کے بالمقابل قرار دیا گیا ہے یہ وہ مسلمان شخص ہے، جو کچھ کھاتا ہے، اور پھر وہ اپنے پروردگار کی نافرمانی نہیں کرتا ہے وہ اپنی ذات کو قوت پہنچاتا ہے وہ شکر کو مکمل کرتا ہے کہ اپنے اعضاء کے ذریعے نیکیوں کا ارتکاب کرتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے: روزہ دار اس کے ساتھ صبر کے حوالے سے مل جاتا ہے، کیونکہ وہ ممنوعہ چیزوں سے صبر کرتا ہے۔ اسی طرح اسے صبر شکر کرنے والے کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ تو اب یہ بات لازم ہے کہ یہ شکر جس سے اس صبر کے مقابلے میں رکھا گیا ہے۔ یہ وہ ہو، جو اس کے قریب ہو یا اس کے ساتھ مناسبت رکھتا ہو اور یہ ممنوعہ چیزوں کا ترک کرنا ہے جیسا کہ ہم پہلے ذکر کر چکے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب البر والإحسان/حدیث: 315]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (655).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات لكنه منقطع ... ويتحصل أن الحديث صحيح بطرقه وشاهده.
الرواة الحديث:
سعيد بن أبي سعيد المقبري ← أبو هريرة الدوسي